اورکزئی ایجنسی اور باجوڑ میں حملے، چار اہلکاروں سمیت 20 ہلاک

Image caption لور اورکزئی کے اس علاقے شیرین درہ میں نومبر کے اوائل میں بھی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کے مطابق ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے میں دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں، جبکہ جوابی کارروائی میں 15 شدت پسند مارے گئے۔

تشدد کے ایک اور واقعے میں باجوڑ ایجنسی میں سالازئی تحصیل کے علاقے چرگو میں منگل کی صبح سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم کے دھماکے میں مقامی لیویز پولیس کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے، جبکہ پولیٹیکل تحصیلدار زخمی ہوئے۔

ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار نے ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ شدت پسندوں نے پیر اور منگل کی درمیانی شب اورکزئی ایجنسی میں شیرین درہ کے علاقے میں واقع ایک سکیورٹی چیک پوسٹ حملہ کیا جس میں دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ فورسز کی جوابی کارروائی میں 15 شدت پسند مارے گئے۔

لوئر اورکزئی کے اس علاقے شیرین درہ میں نومبر کے اوائل میں بھی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں چار اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں 20 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

یاد رہے کہ لوئر اورکزئی ایجنسی کا علاقہ خیبر ایجنسی کی سرحد سے ملا ہوا ہے۔ اس علاقے میں کالعدم تنظیموں کے عسکریت پسند بہت عرصے سے سرگرم بتائے جاتے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں سالازئی تحصیل کے علاقے چرگو میں ہونے والے دھماکے میں جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا اس میں یہ اہلکار اکٹھے سفر کر رہے تھے۔

اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ سہیل احمد خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ اہلکار اس تحصیل میں پولیو مہم کی حفاظت پر مامور تھے۔ زخمی ہونے والے پولیٹیکل تحصیلدار کی شناخت صاحبزادہ کے طور پر کی گئی ہے۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو فون کر کے باجوڑ میں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ادھر اطلاعات ملی ہیں کہ خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف جاری آپریشن خیبر ون کے باعث عسکریت پسند بڑی تعداد میں اورکزئی ایجنسی اور دیگر علاقوں کی طرف فرار ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں