بلوچستان میں بم حملے اور فائرنگ سے سات ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ایک 13سالہ لڑکا ہلاک اور 25 افراد زخمی ہو گئے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں منگل کو بم حملے اور فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق بم حملہ منگل کی صبح دارالحکومت کوئٹہ میں ڈبل روڈ کے علاقے میں ہوا جس کا نشانہ ممکنہ طور پر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج تھے۔

اس دھماکے میں جج تو محفوظ رہے لیکن ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

ایس ایس آپریشنز کوئٹہ اعتزاز گورایہ نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے ایک آلٹو کار میں دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اسے ڈبل روڈ پر سپیئر پارٹس کی دکانوں اور گیراجوں کے قریب کھڑا کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ دھماکے کے وقت انڈسٹریل پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او اور انسداد دہشت گردی عدالت کوئٹہ کے جج نذیر احمد لانگو کی گاڑیاں وہاں سے گزر رہی تھیں۔ دھماکے میں ان کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا تاہم وہ دونوں محفوظ رہے۔

البتہ دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ایک 13 سالہ لڑکا ہلاک اور 25 افراد زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جہاں دو کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

دھماکے میں چھ گاڑیوں اور متعدد دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں 40 کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

کچھی میں میونسپل افسر پر حملہ

دوسری جانب صوبہ بلوچستان کے ضلع کچھی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ڈیرہ مراد جمالی کے تحصیل میونسپل افسر سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

کچھی کے ایک انتظامی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل میونسپل آفیسر ڈیرہ مراد جمالی معراج پانچ بچوں کے ساتھ ایک گاڑی میں جا رہے تھے جبکہ حملہ آور ایک گاڑی میں ان کا پیچھا کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا: ’جب تحصیل میونسپل آفیسر کی گاڑی مٹھڑی کے قریب پہنچی تو پیچھے سے آنے والی گاڑی میں مسلح افراد نے اس کی گاڑی پر فائرنگ کی۔‘

فائرنگ کے نتیجے میں تحصیل میونسپل افسر سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے جن کی لاشوں کو سبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ یہ قبائلی دشمنی کا شاخسانہ ہو سکتا ہے

اسی بارے میں