بلوچستان میں پرتشدد واقعات، چھ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان کے صرف بڑے شہری علاقوں میں انتظآمی کنٹرول پولیس کے پاس ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ضلع کیچ میں پولیس کے ایک قافلے پر حملہ ہوا ہے ۔ تشدد کا ایک واقعہ بدھ کی شام کوئٹہ شہر میں عثمان روڈ پر پیش آیا۔

گوالمنڈی پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اس علاقے میں دو دکانوں پر فائرنگ کی ۔ان میں سے ایک دکان حجام کی تھی جبکہ دوسری میں رنگ ساز کام کر رہے تھے۔ سات افراد فائرنگ کی زد میں آ گئے جن میں سے پانچ ہلاک اوردو زخمی ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں کی شناخت ہوچکی ہے۔ ان میں سے چار پنجابی آبادکار تھے جبکہ ایک کا تعلق ہندو برادری سے بتایا گیا ہے۔پولیس اہلکار کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔

تشدد کا دوسراواقعہ ضلع خضدار کے علاقے اوورناچ میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک قبائلی معتبر ملک قاسم ہلاک ہوگئے۔

پولیس کے قافلے پر حملہ ضلع کیچ کے علاقے بالیچہ میں پیش آیا ۔کیچ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کا قافلہ ضلعی پولیس افسر کی قیادت میں تمپ سے ضلعی ہیڈ کوارٹر تربت آرہا تھا۔اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایران سے متصل ضلع کیچ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں امن و امان کی صورتحال خراب ہے ۔

بلوچستان کی موجودہ حکومت مکران ڈویژن اور قلات ڈویژن کے بعض علاقوں میں پولیس فورس کے انتظامی کنٹرول کو بڑھانا چاہتی ہے۔

پولیس کے جن اہلکاروں پر آج بالیچہ کے علاقے میں حملہ ہوا وہ 6 اکتوبر کو ضلع کے علاقے تمپ میں چارج سنبھالنے کے لیے گئے تھے۔ ان اہلکاروں پر راستے میں حملہ ہوا تھا جس میں دو اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ بلوچستان انتظامی حوالے سے اے اور بی حصوں میں تقسیم ہے ۔ اے ایریاز بڑے شہری علاقوں پر مشتمل ہیں جن کا انتظامی کنٹرول پولیس کے پاس ہے جبکہ بی ایریاز زیادہ تر دیہی علاقوں پر مشتمل ہیں اور یہاں کاانتظامی کنٹرول لیویز فورس کے ہاتھ میں ہے۔ پولیس کا انتظامی علاقہ بلوچستان کے کل رقبے کا صرف دس فیصد بنتا ہے ۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرکے بلوچستان کے تمام علاقوں کا کنٹرول پولیس کے ہاتھ میں دیا گیا تھا۔قوم پرست جماعتوں نے پرویز مشرف کے اس اقدام کی شدید مخالفت کی تھی۔

اس کے بعد پیپلز پارٹی کی سابق حکومت میں لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔ اب قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کی قیادت میں موجودہ حکومت ایک بار پھر بعض علاقوں میں پولیس کے انتظامی کنٹرول میں اضافہ کر رہی ہے۔

اسی بارے میں