وارنٹ کے اجرا کے بعد عمران کا ضمانت کروانے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عمران خان اور طاہرالقادری پر پارلیمنٹ ہاؤس اور پی ٹی وی پر حملے سمیت متعدد الزامات ہیں

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پارلیمنٹ ہاؤس اور پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر حملے کے الزام میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سمیت متعدد قائدین کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اپنی ضمانت نہیں کروائیں گے۔

گرفتاری کے وارنٹ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کوثر عباس زیدی نے اسلام پولیس کی درخواست پر دیے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پولیس کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی طرف سے یکم ستمبر کو پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن اور پارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ کر کے نہ صرف وہاں پر نقصان پہنچایا گیا بلکہ وہاں پر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

درخواست گُزار کا کہنا تھا کہ ان سرکاری عمارتوں پر حملہ کرنے کے الزام میں کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا اور پولیس کے بقول ان افراد نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ اُنھوں نے ان عمارتوں پر حملہ اپنے قائدین کی ہدایت پر کیا تھا۔

درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا کہ جب تک اصل ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا اُس وقت تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔

عدالت نے درخواست گزار کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے عمران خان، طاہرالقادری، پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور پاکستان عوامی تحریک کے صدر رحیق عباسی اور دوسری قیادت کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

اسلام آباد پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کی لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو بہت جلد اپنا کام شروع کردیں گی۔

عمران خان نے وارنٹ کے اجرا کے بعد بدھ کی شب ڈی چوک پر دھرنے کے شرکا سے خطاب میں حکومت کو اپنی گرفتاری کا چیلنج دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وارنٹ گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت 30 نومبر کو پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں ہونے والے جلسے سے خوفزدہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر انھیں گرفتار کیا گیا تو پھر بھی یہ جلسہ ہوگا اور پھر یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا۔

عمران نے کہا کہ ’میاں صاحب، میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میری گرفتاری کی آپ کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘

عمران نے کہا کہ ان کے لیے جیل میں رہنا بہت آسان ہوگا کیوں کہ وہ دھرنے کے مقام پر کنٹینر ہی میں رہ رہے ہیں۔

عمران خان کے خلاف کسی بھی عدالت کی طرف سے پہلی مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیےگئے ہیں جبکہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کے خلاف گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت پہلے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے۔

اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت کے خلاف نو سے زائد مقدمے درج کیےگئے ہیں۔ طاہرالقادری ان دنوں غیر ملکی دورے پر ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے 30 نومبر کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

اسی بارے میں