تھر:’ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم خرچ نہیں ہو سکی‘

Image caption حکومت تھر میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کی گئی رقم کا نصف بھی خرچ نہیں کر سکی

حکومت سندھ نے قحط زدہ صحرائے تھر میں متاثرین میں مفت گندم کی تقسیم جاری رکھنے اور ضلع کے اہم ہسپتالوں میں جامشورو یونیورسٹی سے بچوں کے امراض کے ماہرین اور گائناکالوجسٹ ڈاکٹرز بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صحرائے تھر گذشتہ دو سال سے مسلسل قحط سالی کا شکار ہے، مقامی میڈیا میں بچوں کی خوراک کی قلت اور دیگر بیماریوں میں ہلاکت کی خبریں آنے اور سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے احتجاج کے بعد مٹھی میں بدھ کو سندھ کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

تھر میں قحط سالی سے خودکشیوں میں اضافہ: ویڈیو رپورٹ

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں ہر تحصیل میں موبائل میڈیکل یونٹ سروس شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

یہ سروس ہیلتھ سہولیات سے آراستہ 28 گاڑیوں اور 50 موٹر سائیکلوں پر مشتمل ہوگی جس کے ذریعے ضلع بھر میں لوگوں کی دہلیز پر یو ایس ایڈ کی مدد سے نوزائیدہ بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنایا جائے گا۔

صوبائی کابینہ کے اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ حکومت تھر میں بدترین صورتحال ہونے کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کی گئی رقم کا نصف بھی خرچ نہیں کر سکی ہے۔

اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران صرف ضلع تھرپار کر کے لیے 17 ارب 66 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے سات ارب 26 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ 50 کروڑ روپے تھر ڈولپمنٹ اتھارٹی کے لیے رکھے گئے ہیں اور 40 کروڑ روپے اس کے ترقیاتی پیکیج کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق سندھ کابینہ نے صوبائی وزیر جام مہتاب اور دوست علی راہموں کی نگرانی میں دو کمیٹیاں بھی تشکیل دی ہیں جو صحت کی سہولیات اور گندم کی شفاف طریقے سے تقسیم کی نگرانی کریں گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جون 2015 تک شمسی توانائی سے چلنے والے آر او پلانٹس جن کے ذریعے کھارے پانی کو میٹھا بنایا جاتا ہے، کی تنصیب کی رفتار کو تیز کیا جائے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ریلیف کمیٹی کے سربراہ سینیٹر تاج حیدر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ڈیڑھ سو پلانٹ نصب ہو چکے ہیں جبکہ دیگر دسمبر تک ہو جائیں گے۔

وزرا پر مشتمل دو رکنی کمیٹی نے اجلاس کو بتایا کہ ضلع میں صحت کی سہولیات اطمینان بخش ہیں اور کوئی بھی بچہ یا شخض بھوک کے باعث ہلاک نہیں ہوا ہے، یہ ہلاکتیں بروقت علاج نہ کرانے،گھروں میں ہونے والی زچگی اور اس کے باعث ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث ہوئی ہیں اور انھوں نے سفارش کی کہ ضلع میں صحت کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تھر میں بارشیں نہ ہونے سے پانی اور خوراک کا بحران شدت اختیار کر گیا

کابینہ میں تھر ڈولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے متعلق مجوزہ ڈرافٹ بل سندھ اسیمبلی کے رواں اجلاس میں پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے تھر کے کئی علاقوں میں طبی اور امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں متحدہ قومی موومنٹ پہلی جماعت ہے جس کی جانب سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ متحدہ کے ڈاکٹر اراکین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور ڈاکٹر صغیر احمد نے بھی دیگر ڈاکٹروں کے ساتھ مریضوں کا معائنہ کیا اور دوائیں تقسیم کیں۔

دوسری جانب کافی عرصے بعد وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم سامنے آئے ہیں اور ان سے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان بابرغوری اور عادل صدیقی نے ملاقات کی۔

ارباب غلام رحیم کا کہنا تھا کہ مٹھی میں سندھ کابینہ کا اجلاس عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے کیونکہ ان علاقوں کے عوام کو اجلاس کی نہیں اجناس کی ضرورت ہے ۔

اسی بارے میں