’اشرف غنی ماضی کا بوجھ لے کر نہیں آئے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ARG
Image caption ماہرین کے نزدیک پاکستان کے لیے حامد کرزئی کے مقابلے میں اشرف غنی کے ساتھ بات کرنا نسبتاً آسان ہوگا

سابق افغان صدر حامد کرزئی کے مقابلے میں ان کے جانشین اشرف غنی کے پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات نہ ہونا ہی بعض مبصرین کی نظر میں ان کے دور میں دونوں ملکوں کے درمیان ’نئی شروعات‘ کا ضامن ہو سکتا ہے۔

جمعے کو دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچنے والے افغان صدر اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اپنے اس پڑوسی ملک میں آ چکے ہیں لیکن بعض دیگر اہم افغان شخصیات کی طرح پاکستان ان کا مسکن کبھی نہیں رہا۔

بعض مبصرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ان کے اس دیرینہ تعلقات کا نہ ہونا دراصل دونوں ملکوں کے لیے اچھی بات ہے کیونکہ بعض دیگر افغان رہنماؤں کے مقابلے میں ان کا ذہن پاکستان کے معاملے میں ’کلین سلیٹ‘ کی طرح ہے اور وہ سابق افغان صدر حامد کرزئی کی طرح ماضی کا بوجھ لیے پاکستان نہیں آ رہے۔

اشرف غنی سے چار دہائیوں سے واقف افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ ’اشرف غنی اپنے پیش رو حامد کرزئی کی طرح پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ نہیں رکھتے، اسی لیے ان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ نسبتاً کھلے ذہن کے ساتھ پاک افغان تعلقات میں نیا آغاز کر سکتے ہیں۔‘

اشرف غنی کے ماضی سے باخبر حلقے کہتے ہیں کہ ان میں دیگر افغان رہنماؤں والی بیشتر خصوصیات نہیں پائی جاتیں۔ وہ افغانستان میں لڑائی کے دوران ہجرت کر کے پاکستان نہیں آئے اور نہ ہی کبھی یہاں رہے۔ ان کے دور پار کے رشتہ دار یا جاننے والے تو شاید پاکستان میں ہوں لیکن ان کے قریبی عزیز اس ملک میں نہیں پائے جاتے۔

اشرف غنی کے پاکستان میں براہ راست کاروبار کے بھی کوئی شواہد نہیں ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انھوں نے افغان جہاد میں عملاً حصہ نہیں لیا۔ اس لیے پاکستانی حکومت، خفیہ ادارروں یا فوج کے ساتھ وہ کبھی براہ راست رابطے میں نہیں رہے۔

لیکن ایسا بھی نہیں کہ پاکستان ان کے لیے بالکل اجنبی ملک ہے۔ دسمبر 1979 میں جب روسی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو چند ہفتوں کے دوران وہ اسلام آباد آئے تھے۔

یہاں انھوں نے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی اور افغانستان کو مسائل سے نجات دلانے کی تجاویز پیش کیں۔ اس کے بعد سے وہ کئی بار پاکستان آئے، لیکن مختصر دورانیے کے لیے۔

ان کی زندگی کا بڑا حصہ امریکہ اور اس سے پہلے لبنان میں گزرا ہے۔ اس دوران وہ افغانستان اور پاکستان آتے رہے اور یہاں کچھ دوست بھی بنا رکھے ہیں، لیکن رحیم اللہ یوسفزئی کے بقول حامد کرزئی کی طرح انھیں پاکستان سے زیادہ گلے شکوے نہیں ہیں۔

حامد کرزئی پشاور اور کوئٹہ میں رہے اور افغان جہاد میں شرکت کے دوران یہیں اپنی تنظیم بنائی اور پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کے بقول: ’اسی دوران انھیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کام کرنے کے طریقوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، ان سے دوستیاں بھی ہوئیں اور اختلافات بھی رہے اور انھی سرد گرم تعلقات کا بوجھ لیے وہ افغانستان کی کرسی صدارت پر فائز رہے اور اس کے اثرات سے دونوں ملکوں کے تعلقات محفوظ نہیں رہ سکے۔‘

رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ ’اشرف غنی کے معاملے میں ایسی نزاکتیں، پیچیدگیاں اور ماضی کے بوجھ نہیں ہیں جو دونوں ملکوں کے تعلقات میں تلخی کا باعث بن سکیں۔‘

ماضی کے اس بوجھ کے نہ ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اشرف غنی کے دور میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مشکلات نہیں ہوں گی۔

دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ بنیادی مسائل رہے ہیں جو اپنی جگہ اب بھی برقرار ہیں۔ افغانستان میں حکمران طبقے کو پاکستان سے کچھ شکایات ہیں جو افراد کی تبدیلی سے ختم نہیں ہوں گی۔ پاکستان اور افغانستان کو مل بیٹھ کر ان مسائل کو حل کرنا ہو گا صرف اسی طرح تعلقات میں بہتری آئے گی۔

تاہم رحیم اللہ جیسے افغان امور کے بعض ماہرین سمجھتے ہیں کہ حامد کرزئی کے مقابلے میں اشرف غنی کے ساتھ بات کرنا پاکستان کے لیے آسان ہو گا اور شاید اشرف غنی کے لیے بھی ماضی کی تلخیاں نہ ہونے سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے کھلے ذہن کے ساتھ کام کرنا نسبتاً آسان ہو۔

اسی بارے میں