شکوک کی جگہ اعتماد؟

تصویر کے کاپی رائٹ

آخری مرتبہ جب پاکستانی فوج کے سربراہ واشنگٹن آئے تھے تو انھیں فکر مند امریکی رہنماؤں سے خاصی کھری کھری سننا پڑی تھیں۔ امریکیوں نے صاف بتا دیا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خوفناک حملے جاری رہنے کا مطلب یہی ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ اپنے ملک میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں مخلص نہیں ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ چار برس بعد، اب پاکستانی فوج کے نئے سربراہ جنرل راحیل شریف اپنے پہلے سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچ رہے ہیں۔ اس مرتبہ لگتا ہے کہ امریکی دارالحکومت میں پاکستان کے سب سے زیادہ طاقتور شخص کا استقبال اتنے زیادہ شکوک کے ساتھ نہیں کیا جائے گا۔

ایک سال پہلے فوج کا سربراہ بننے کے بعد سے جنرل راحیل پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف ایک بڑی عسکری کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ فوجی آپریشن کس قدر مؤثر ثابت ہو گا، اس کا تعین کرنے میں کئی ماہ و سال لگ سکتے ہیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے اپنی سرحد کے اندر دہشتگردوں کے خلاف اس کارروائی سے امریکہ کے اس اعتماد میں اضافہ ہوا ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں سنجیدہ ہے۔

گذشتہ ہفتے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سینیئر افسر لیفٹینینٹ جنرل جوزف اینڈرسن نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ پاکستان میں بیٹھ کر کارووائیاں کرنے والا افغان مزاحمتی گروہ ’حقانی نیٹورک‘ اب ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔

کابل سے ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل اینڈرسن کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹورک میں توڑ پھوڑ کی ’بڑی وجہ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائیاں ہیں جو اس سال پورے موسم گرما اور خزاں میں جاری رہیں۔ پاکستانی فوج کے آپریشن کی وجہ سے ان (حقانی گروپ) کے لیے یہاں کابل میں کسی قسم کی دہشتگردی کرنا اب اتنا آسان نہیں رہا۔‘

اگرچہ دیگر امریکی اہلکار اپنے تجزیے میں جنرل اینڈرسن سے زیادہ محتاط ہیں، تاہم جنرل اینڈرسن کے الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کی آمد پر واشنگٹن میں عمومی فضا کیا ہوگی۔

جمعے کو اسلام آباد میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ ’ دونوں جانب یہ احساس پایا جاتا ہے کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے اور دونوں ممالک اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔‘

جمعے کو ہی افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی اسلام آباد پہنچے اور انھوں نے جنرل راحیل شریف سے ملاقات بھی کی۔اشرف غنی نے نواز شریف سے بھی ملاقات کی اور دونوں نے اکٹھے ایک کرکٹ میچ بھی دیکھا۔

کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر غنی کا دورۂ پاکستان اور جنرل راحیل کا امریکہ جانا اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ کابل میں ایک زیادہ بڑی نمائندہ حکومت کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دہشتگردی کے خلاف ایک بامعنی تعاون کے لیے فضا بہتر ہو رہی ہے۔

Image caption ایڈمرل مائیک ملن کا دور شکوک کا دور تھا: تـجزیہ کار

حامد کرزئی، جو کہ سنہ 2001 میں امریکی افواج کی قیادت میں طالبان حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے افغانستان کے واحد رہنما رہے ہیں، وہ ہمیشہ پاکستان کے بارے میں مشکوک رہے ہیں اور زیادہ تر پاکستان کو ہی افغانستان کی مصیبتوں کا ذمہ دار گردانتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حامد کرزئی کا اوبامہ انتظامیہ سے بھی کئی مرتبہ جھگڑا ہوا کیونکہ وہ افغانستان میں امریکہ کی فوجی کارروائیوں کو محدود رکھنے کے قائل تھے اور اس بات سے بھی انکار کرتے رہے کہ نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد بھی کچھ امریکی فوجیں افغانستان میں موجود رہیں۔

لیکن، اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے چند دن کے اندر اندر ہی صدر اشرف غنی نے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے جس کے تحت اگلے سال بھی امریکہ کے 9,800 فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے۔

امریکی سفیر کے مطابق گذشتہ ماہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کا ایک اور اشارہ اس وقت ملا تھا جب دونوں ممالک مشترکہ طور پر کرغستان اور تاجکستان سے بجلی برآمد کرنے پر رضامند ہو گئے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں مسٹر غنی نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ بھارت سے اسلحہ خریدنے کے حامد کرزئی کے فیصلے پر بھی نظرثانی کر رہے ہیں۔

مسٹر غنی کے اس بیان کے بارے میں تقریباً ہر کسی کا یہی کہنا تھا کہ یہ افغانستان کے جانب سے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہے۔

اس کے علاوہ جنرل راحیل شریف کا ایک ہفتے کا دورہ انہی دنوں میں ہو رہا جب حامد کرزئی کے صدر نہ رہنے کے بعد اب یہ امید بڑھ رہی ہے کہ امریکہ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔

گزشتہ کئی برسوں سے پاکستانی فوج اور اس کے اینٹیلیجنس افسران پر الزام لگتا رہا ہے کہ وہ خفیہ طور پر کچھ شدت پسند گروہوں کی مدد کرتے ہیں جن میں حقانی گروپ بھی شامل ہے۔

سنہ 2011 میں امریکہ کے ایڈمرل مائیک ملن کا ایک بیان تمام ذرائع ابلاغ میں بہت نمایاں رہا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کے شدت پسند پاکستان میں بلاخوف و خطر اپنے کام کرتے ہیں اور وہ پاکستانی ریاست کی سرپرستی پر انحصار کرتے ہیں۔

اگرچہ جنرل اشفاق کیانی نے بھی سوات اور جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائیاں کیں، تاہم وہ شمالی وزیرستان میں کارروائی کے خلاف رہے حالانکہ یہ علاقہ نہ صرف پاکستانی طالبان کا گڑھ بن چکا تھا بلکہ القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک کے لیے بھی ایک محفوظ پناہ گاہ۔

لیکن جنرل راحیل شریف نے جون میں شمالی وزیرستان میں بھی اپنی فوج بھجوا دی۔

پاکستانی افسران کا کہنا کہ ہے کہ جون سے اب تک 12,00 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں یا پکڑ لیے گئے، جبکہ اس دوران پاکستان کے 70 فوجی مارے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption صدر غنی کے دورۂ پاکستان اور جنرل راحیل کے امریکہ جانے سے لگتا ہے کہ فضا بہتر ہو رہی ہے

گذشتہ ماہ کئی تجزیہ کار اس وقت حیران ہو گئے جب جنرل راحیل نے فوجی آپرشین کا دائرہ کار خیبر ایجنسی تک پھیلا دیا۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل جاوید اشرف قاضی کے بقول ’اس مرتبہ فوج بھرپور کارروائی کر رہی ہے۔ فضایہ، گن شِپ ہیلی کاپٹر دہشتگردوں کو ہر جگہ نشانہ بنا رہے ہیں اور بری فوج آہستے آہستہ پہاڑوں پر چڑھ رہی جہاں دہشتگردوں کے آخری ٹکھانے ہیں۔‘

اگرچہ ابھی تک پاکستانی فوج نے کسی بڑے دہشتگرد کو مارنے کا دعویٰ نہیں کیا ہے، تاہم زیادہ تر امریکی افسران اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ پاکستان کی فوج اس مرتبہ حقانی نیٹ ورک پر کاری ضربیں نہیں لگا رہی۔

تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ جنرل راحیل واشنگٹن میں جلد ہی اپنے امریکی ہم منصب سے اچھا تعلق بنا لیں گے۔

بقول ایک تجزیہ کار کے: ’ میراخیال ہے کہ پینٹاگون میں لوگ جلد ہی جنرل راحیل سے گھل مل جائیں گے، کیونکہ ان کا انداز امریکی ہے۔ امریکی باتوں سے زیادہ آپ کا کام دیکھتے ہیں۔ اور جہاں تک کام کا تعلق ہے، وہ تو جنرل راحیل نے کر کے دکھا دیا ہے۔‘