ماضی کو بھول کر مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے: اشرف غنی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں جمہوری عمل کا تسلسل چاہتے ہیں

وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے پاکستان کے دورے پر آنے والے افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان دہشت گردی اور شدت پسندی کے مسائل سے مل کر نمٹیں گے جبکہ افغان صدر نے کہا ہے کہ ماضی کو بھول کر مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نے سنیچر کو وزیرِ اعظم ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اشرف غنی کو ان کے دوسرے گھر پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی پر براہِ راست نشر ہونی والی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اہمیت کے حامل ہیں اور مستحکم افغانستان کے لیے افغان حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے مستحکم اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، افغانستان تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور پاکستان اس کے ساتھ ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی امن و سلامتی ایک دوسرے سے منسلک ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں جمہوری عمل کا تسلسل چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کو بھول جانا چاہیے اور مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے۔

انھوں نے تجارت سے متعلق حالیہ سمجھوتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 13 سال کا سفر تین دن میں طے ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے دیکھنا چاہتے ہیں: نواز شریف

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی ممالک میں جمہویت مستحکم ہو رہی ہے۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے پہلے افغان اور پاکستان کے وزراء خزانہ نے تجارت سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو دگنا کیا جائے گا۔

اس سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے، سکیورٹی، تجارت اور معیشت کے حوالے سے وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی۔

سنیچر کو وزیرِ اعظم ہاؤس پہنچنے پر صدر اشرف غنی کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب ہوئی۔

سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیرِاعظم نواز شریف جبکہ افغان وفد کی سربراہی صدر اشرف غنی نے کی۔

طرفین نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے بات چیت کی۔

مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خان، احسن اقبال، اسحاق ڈار، خرم دستگیر، مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز، معاونِ خصوصی طارق فاطمی شریک ہوئے جبکہ افغانستان کی جانب سے قومی سلامتی کے افغان وزیرِ خارجہ ضرار عثمانی، مشیر حنیف اتمار، خصوصی نمائندے احمد ضیاء مسعود، اول نائب چیف ایگزیکٹیو محمد خان، وزیرِ خزانہ حضرت عمر اور اعلیٰ امن کونسل کے عہدیدار محمد معصوم شریک ہوئے۔

اس سے پہلے افغان صدر اشرف غنی نے سنیچر ہی کو اسلام آباد میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال ہے۔

پی ٹی وی کے مطابق افغان صدر سے پاکستان پیپلز پارٹی کی شیری رحمٰن، اعتزاز احسن، فرحت اللہ بابر، فیصل کریم کنڈی، نیشنل عوامی پارٹی کےسربراہ اسفندیار ولی خان اور افرا سیاب خٹک، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی نے ملاقات کی۔

افغان صدر اشرف غنی سے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بھی ملاقات کی۔

افغان صدر اشرف غنی نے جمعے کو پاکستان بری فوج کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ کابل اسلام آباد کے ساتھ سکیورٹی اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے اور سرحدی انتظام میں تعاون چاہتا ہے۔

افغان صدر نے جمعے کو جی ایچ کیو کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان کے وفد کو پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

پاک فوج کے دستے نے افغان صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور افغان صدر نے آرمی چیف کے ہمراہ گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔

بعض دفاعی تجزیہ کار اشرف غنی کے دورہ جی ایچ کیو اور وہاں اس خیر مقدم کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ سابق افغان صدر اپنے دس سالہ دور اقتدار میں راولپنڈی میں اس نوعیت کے خیر مقدم سے محروم رہے۔

اسی بارے میں