جنگ زدہ علاقوں کے صحافیوں کے لیے ٹروما سینٹر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں ایک جنگ کی کیفیت ہے جس سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ صحافی بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں‘

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کےلیے ملک کا پہلے ٹروما سینٹر (Trauma Centre) قائم کیا گیا ہے۔

اس سینٹر میں صحافیوں کو شدید ذہنی دباؤ سے بچنے اور دیگر نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کےلیے علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

کومپی ٹینس اینڈ ٹروما سینٹر فار جرنلسٹس (سی ٹی سی جے) کے نام سے موسوم یہ ٹروما سینٹر شعبہ نفسیات پشاور یونیورسٹی میں کھولا گیا ہے جس کا باقاعدہ افتتاح آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔

شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ پشاور یونیورسٹی اور غیر ملکی ادارے ڈی ڈبلیو اکیڈمی کے اشتراک سے قائم کردہ اس سینٹر میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو نفسیاتی مسائل سے آگاہی فراہم کی جائےگی۔ اس کے علاوہ انھیں شدید ذہنی تناؤ سے بچنے کےلیے مفید مشورے اور علاج معالجے کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

اس سلسلے میں شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ پشاور یونیورسٹی میں ایک مباحثے کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں جرنلزم ڈیپارٹمنٹ اور شعبہ نفسیات کے اساتذہ، صحافتی تنظیموں کے نمائندوں اور اخبار نویسوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر الطاف اللہ خان نے کہا کہ گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں ایک جنگ کی کیفیت ہے جس سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ صحافی بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ زدہ علاقوں میں دھماکوں اور تشدد کے واقعات کی کوریج کرنے والے صحافی شدید ذہنی دباؤ اور دیگر کئی قسم کے نفسیاتی مسائل سے دوچار ہورہے ہیں۔

ان کے مطابق افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سے پہلے کسی تنظیم کی جانب سے صحافیوں کے نفسیاتی مسائل کے حوالے سے کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ٹروما سینٹر میں علاج معالجے کے سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔

اس سے پہلے خطاب کرتے ہوئے شعبہ نفسیات پشاور یونیورسٹی کی چیئرپرس ڈاکٹر ارم ارشاد نے نفسیاتی ٹروما اور ذہنی دباؤ پر روشنی ڈالی اور اس کے بروقت علاج پر زور دیا۔

اسی بارے میں