کچھ لوگوں کو مگرمچھ نہیں نگلتا

دھرنا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عمران خان اور طاہر القادری اشتہاری قرار دے دیے گئے تھے

آج یونہی بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ کیا جئے سندھ، ایم کیو ایم، بلوچستان نیشنل پارٹی، پختون خوا ملی عوامی پارٹی یا عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر یا گلگت و بلتستان کی کوئی مقامی تنظیم یا شیعہ مجلسِ وحدت، پاکستان کرسچن لیگ، آل پاکستان ہندو پنچائت یا ماما قدیر کی وائس آف مسنگ پرسنز بھی اسلام آباد کے ریڈ زون میں تین ماہ کا پرامن انفرادی دھرنا دے سکتی ہے؟

اور اگر یہ دھرنا برداشت کر بھی لیا جائے تو کیا ان میں سے کسی بھی جماعت یا طبقے کی جانب سے حساس قومی عمارات میں توڑ پھوڑ کی کوشش کو بھی برداشت کیا جا سکتا ہے؟ کیا ان پر بھی ربڑ کی گولیاں چلیں گی؟ اور کیا قبضے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد بھی وہ دھرنا جاری رکھ پائیں گے؟

اور کیا ان جماعتوں کے ارکانِ پارلیمان کے استعفی بھی منظور کرنے کے بجائے لٹکا کے رکھے جائیں گے؟ اور ان میں سے اگر کسی بھی جماعت کی کسی صوبے میں حکومت ہوگی تو کیا وہ بھی برقرار رہے گی؟ اور کیا ان جماعتوں اور گروہوں کے قائدین پر مختلف دفعات کے تحت سنگین مقدمات قائم ہونے اور انھیں اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد بھی وہ اندرون و بیرونِ ملک پولیس کی حفاظت میں آزادی سے آ جا سکیں گے؟

چلیے دفع کریں اس بات کو، یہ فرمائیے کہ اگر شیخ مجیب الرحمان مغربی پاکستانی ہوتا اور پھر بھی چھ نکات پیش کرتا تو کیا ہوتا؟ 1971 میں مشرقی پاکستان کے بجائے پنجاب وفاق سے علیحدہ ہونا چاہتا تو کیا تب بھی یہ جملہ سننے کو ملتا کہ مجھے لوگ نہیں، زمین چاہیے؟

اگر 1977 میں پاکستان قومی اتحاد کی تحریک صرف تین صوبوں میں چلتی تو کیا بھٹو معزول ہوسکتا تھا؟ اگر سنہ 83 کی ایم آر ڈی تحریک جس طرح سندھ میں چلی اسی طرح پنجاب میں چلتی تو کیا ضیا الحق اگلے پانچ برس بھی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر رہتا؟

اگر 1988 میں بے نظیر بھٹو نہ ہوتیں تو کیا تب بھی مثبت نتائج کی تلاش میں اسلامی جمہوری اتحاد بنتا؟ جیسے 1990 کا الیکشن بے نظیر سے چرایا گیا، کیا 1996 کا الیکشن نواز شریف سے چرایا جا سکتا تھا ؟

یہ جتنی بھی جہادی و فرقہ وارانہ تنظیمیں ہیں، ان میں سے اکثر کے شجرئی ڈانڈے ٹھوکر نیاز بیگ، مریدکے، جھنگ، بہاولپور، مانسہرہ، کوہاٹ، کوہستان وغیرہ وغیرہ سے ہی کیوں ملتے ہیں گھوٹکی اور گوادر سے کیوں نہیں ملتے؟

یہ جتنی بھی قوم پرست تنظیمیں ہیں وہ کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ، تربت، چارسدہ اور گلگت وغیرہ کے اردگرد ہی کیوں پیدا ہوتی ہیں؟ ٹھوکر نیاز بیگ، مریدکے، جھنگ، بہاولپور، مانسہرہ، کوہاٹ، کوہستان وغیرہ کی زمین ان کے لئے بانجھ کیوں ہے؟

اور اگر یہ تمام جہادی، فرقہ وارانہ یا قوم پرست تنظیمیں ملک کی داخلی و خارجی سلامتی کے لیے خطرہ بتائی جاتی ہیں تو ان کی گردن پر آہنی ہاتھ کی گرفت یکساں کیوں نہیں؟

پاکستان کے آئین کے تحت تمام وفاقی اکائیاں اور ان میں رہنے والے شہریوں کے حقوق و فرائض مساوی ہیں۔ قانون کی نظر میں ہر شہری جزا و سزا کے اعتبار سے برابر ہے۔ تمام شہری بلا امتیاز ِ رنگ و نسل و مذہب و ملت ملکی قوانین کے دائرے میں آزادیِ اظہار، تحریر و تبلیغ و عقائد و تنظیم سازی کا بنیادی حق رکھتے ہیں۔

تو پھر یہ جھگڑا کیا ہے؟ دریا اگر ایک ہی ہے تو کچھ تیراک مگرمچھ سے کیوں محفوظ ہیں اور کچھ لوگ اترنے سے پہلے ہی نوالہ کیوں بن جاتے ہیں؟

ریمنڈ ڈیوس یاد ہے نا؟ امریکہ کیسے اسے مکھن میں سے بال کی طرح لے گیا۔ اور عافیہ صدیقی؟ ایک ترقی پذیر بے بس ملک کی شہری۔۔۔

کیا آپ کو بہت سے ریمنڈ ڈیوس اور متعدد عافیائیں دیکھنی ہیں؟ بہت آسان ہے۔ کسی بھی دن کا کوئی بھی اخبار پڑھیں اور شام کو مقامی ٹی وی چینلز دیکھیں۔

کچھ کمی محسوس ہو تو سوشل میڈیا پر چلے جائیں اور پھر آئینے کے سامنے کھڑے ہو جائیں۔ شوق پورا ہو جائے گا۔

اسی بارے میں