’پہلا دورہ مگر اعتماد کی بحالی کا آخری موقع‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ راحيل شریف کا یہ پہلا دورہ ضرور ہے لیکن امریکہ کا اعتماد و یقین حاصل کرنے کا موقع شاید آخری ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اس ہفتے امریکہ پہنچے ہیں جہاں وہ امریکی وزير دفاع چک ہیگل کے علاوہ کئی اعلیٰ افسران اور ارکان کانگریس ملاقات کریں گے۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد راحيل شریف پہلی بار امریکہ کے دورے پر آئے ہیں اور گزشتہ چار برسوں میں پاکستانی فوج کے کسی بھی سربراہ کا یہ پہلا دورۂ امریکہ ہے۔

ان کا یہ دورہ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب چند روز قبل ہی امریکی وزارت دفاع نے ایک بار پھر سے اپنی رپورٹ میں پاکستان پر بھارت اور افغانستان کے خلاف دہشت گردی پھیلانےکا الزام لگایا تھا۔

پاکستان نے اسلام آباد میں امریکی سفير کو طلب کر کے اس پر سخت اعتراض کیا تھا۔

لیکن یہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ افغانستان سےامریکی فوج کی واپسی اب مکمل ہونے کو ہے۔

جنوری کے بعد سے تقریباً 9800 امریکی فوجی افغانستان میں ضرور رکے رہیں گے لیکن امریکہ کو اب پہلے کی طرح پاکستانی بندرگاہوں اور سڑکوں کی ضرورت نہیں رہ جائے گی۔

وہیں امریکہ میں ایک سوچ یہ بھی پائی جاتی ہے کہ افغانستان میں امن اور قانون کے قیام کی چابی کافی حد تک پاکستانی فوج کے ہاتھوں میں ہے۔

ایسے میں واشنگٹن جنرل راحيل شریف سے کیا سننا چاہےگا؟

امریکی نیشنل سكيورٹي کونسل میں پاکستان ڈیسک کی سربراہ رہ چكي شمائلہ چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان سے واپسی کے بعد امریکہ بہت سے معاملات میں پاکستان پر زیادہ موثرطریقے سے دباؤ ڈال سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے’میرا اندازہ ہے کہ امریکہ آنے والے وقت میں حقانی نیٹ ورک جیسے شدت پسند تنظیموں پر ہی نہیں بلکہ پاکستان میں موجود بھارت کے خلاف سرگرم گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے بھی اور زیادہ دباؤ ڈالےگا۔‘

دوسری جانب راحيل شریف شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب مہم کی طورپر پیش کرنا چاہیں گے۔

امریکہ میں اس مہم کی کچھ حد تک تعریف ہوئی ہے.۔ لیکن یہ سوال بھی اٹھا ہے کہ اس میں کسی بڑے شدت پسند خاص طور پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کوئی کامیابی کیوں نہیں ملی ہے۔

گزشتہ برس تک امریکی وزارت دفاع میں ایک اعلی عہدے پر فائز رہنے والے ڈیوڈ سیڈني کا کہنا ہے کہ امریکہ سے پاکستان کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ ’دہشت گردی صرف دہشت گردی ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے ’آپ ایک ملک میں دہشت گردی سے آزادی کی بات کریں اور دوسرے ملک میں اسے پھیلانے کی چھوٹ دیں اس کی اجازت نہیں مل سکتی۔ میرے خیال سے اس معاملے پر نہ صرف امریکہ بلکہ خطّے کے دوسرے ممالک، خاص طور پر چین بھی پاکستان کے رویے میں تبدیلی دیکھنا چاہیں گے۔‘

امریکی مطالبات کے ساتھ ساتھ دوسری طرف راحيل شریف کی بھی اپنی ایک فہرست ہوگی۔ گزشتہ 13 برس میں پاکستان کو امریکہ سے ملنےوالي فوجی امداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور وہاں اب اس بات کی فکر ہے کہ افغانستان سے نکلنے کے بعد امریکہ کہیں منہ نہ موڑ لے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

ایسے میں اندازہ ہے کہ راحيل شریف امریکہ سے فوجی مدد پہلے کی طرح جاری رکھنے کا مطالبہ کریں گے۔

اس کے علاوہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعات بھی بات چیت کا ایک اہم موضوع ہو سکتے ہیں۔

شمائلہ چوہدری کہتی ہیں ’پاکستان امریکہ سے کہنا چاہے گا کہ ہمارے لیے بھارت پر نظر رکھیں، کیونکہ وہ ہمارے لیےمشکلیں پیدا کر سکتا ہے۔ ہمیں اپنے گھر پر توجہ دینا ہے اورگھریلو دہشتگردی ہمارے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بھارت اس سلسلے میں پریشانیاں پیدا کرتا ہے۔‘

گزشتہ چند برسوں میں فوجی سطح پر تو ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات بہتر ہوئے ہی ہیں، امریکی سرمايہ كاري کے لیے بھی بھارت اب ایک بہت بڑا بازار ہے۔

ایسے میں وہاں کسی بھی طرح کا خون خرابہ امریکہ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

شمائلہ چوہدری کہتی ہیں کہ اب تک امریکہ ان تنظیموں کی طرف سے آنکھیں پھیر لیتا تھا جو پاکستان میں رہ کر ہندوستان کے خلاف سازش کرتی تھیں لیکن اب اس معاملے پر امریکہ اور پاکستان کا ٹکراؤ بڑھ سکتا ہے۔

لیکن پاکستان کی ایک بڑی شکایت یہ بھی رہی ہے کہ امریکہ اپنا کام نکالنے کے بعد علاقے کو بھول جاتا ہے اور اس وجہ سے پاکستان اپنا فائدہ مدِ نظر رکھے گا جو ضروری نہیں کہ امریکی ضروریات سے میل کھائے۔

ایسے میں امریکہ کا پیغام کیا ہوگا؟

ڈیوڈ سیڈني کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کو یقین دلانے کی کوشش کرے گا کہ یہ تعلقات برقرار رہیں گے کیونکہ پاکستان کے ساتھ اس کا رشتہ صرف افغانستان کی وجہ سے نہیں ہے۔

وہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد ضرور کم ہوگی لیکن امریکہ کے کردار میں ابھی کمی ہوتی دکھائی نہیں دیتی اس لیے پاکستان کو یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ امریکہ علاقے کو پھر سے بھول جائے گا۔

واشنگٹن میں مانا جا رہا ہے کہ یہ تعلقات کافی حد تک ایک اہم موڑ پر ہیں جہاں راحيل شریف چاہیں تو پہلے ہی کی طرح ہی ’پیسے دو، کام لو‘ کے راستے پر چلیں یا پھر ایک نیا راستہ اختیار کریں جہاں پاکستان واقعی ایک ذمہ دار اتحادی کا کردار ادا کرے۔

بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ راحيل شریف کا یہ دورہ پہلا ضرور ہے لیکن امریکہ کا اعتماد و یقین حاصل کرنے کا موقع شاید آخری ہے۔

اسی بارے میں