پناہ گزینوں کے مسائل، سیاسی جماعتوں کا گرینڈ جرگہ طلب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث لاکھوں افراد گھربار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں

پاکستان کی پانچ سیاسی جماعتوں نے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث بے گھر ہونے والے خاندانوں کے مسائل پر 22 نومبر کو’گرینڈ قبائلی جرگہ‘ بلانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ فیصلہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کی صدارت میں اسلام آباد میں ہونے والے ان جماعتوں کے سربراہی اجلاس میں ہوا جس میں جمعیت علمائے اسلام کے اپنے ہی دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ پانچوں جماعتوں کے قائدین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تمام قبائل کی مشاورت سے قبائلی علاقوں کی مشکلات خاص طور پر پناہ گزینوں کے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ گرینڈ قبائلی جرگہ اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگا جس میں قبائلی عمائدین اور سیاسی اکابرین شرکت کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ پناہ گزین قبائلی علاقوں کے انتہائی متاثرہ لوگ ہیں، ان کے اور قبائلی علاقوں کے دوسرے لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے یکجہتی اور اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔

خیبر پختونخوا کی حکومت کے اس موقف کے متعلق سوال پر کہ شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے لوگ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہیں، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا سب سے اہم مسئلہ آئی ڈی پیز کا ہے۔

’ آئی ڈی پیز پاکستان کا مسئلہ ہے، پوری قوم کا مسئلہ ہے، مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا مسئلہ ہے اور پاکستان کے 18 کروڑ عوام کا مسئلہ ہے۔ اس لیے ہم آج یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں اور سب مل کر آئی ڈی پیز کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آپ کے مسائل کو ہم سمجھتے بھی ہیں اور یہی پیغام ہم مرکزی حکومت کو بھی دینا چاہتے ہیں۔‘

اسفندر یار ولی خان نے پاکستانی میڈیا پر تنقید کی اور کہا کہ وہ پناہ گزینوں کے مسائل کو مطلوبہ کوریج نہیں دے رہا۔

’آئی ڈی پیز آپ کی بھی ذمہ داری ہے، ہم جب ٹی وی چینلوں کے نیوز بلیٹن دیکھتے ہیں تو مجھے یہ بتائیں کہ وہ جو ایک گھنٹے کی نیوز ہوتی ہیں اس میں آپ کتنا وقت آئی ڈی پیز کو دیتے ہیں؟‘

انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ آئی ڈی پیز کو بھی اتنا وقت دے جتنا وقت ان کے بقول میڈیا دوسری چیزوں کو دیتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پناہ گزینوں کا مسئلہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور اسے ہم اپنے سیاسی اختلافات کی بھینٹ نہ چڑھائیں تو بہتر ہوگا۔ انھوں نے عمران خان کی تحریک انصاف کا نام لیے بغیر کہا کہ صوبائی حکومت بھی تو آخر وفاق کی ایک وحدت کا نام ہے اور وفاق سے الگ صوبے کا کوئی مستقل مملکت کا تصور نہیں ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ اگر اس انسانی المیے پر تمام سیاسی جماعتیں اور صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت مشترکہ پالیسی مرتب نہیں کرتیں اور ایک دوسرے سے تعاون نہیں کرتیں تو اس سے قبائلی عوام متاثر ہوں گے۔

اسفندر یار ولی خان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو پارٹی سیاست اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کے اس مسئلے پر توجہ دینی چاہیے۔

حال ہی میں بی بی سی کو دیے گیے ایک انٹرویو میں پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ میجر جنرل محمد سعید علیم نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری لڑائی سے املاک کو پہنچنے والے نقصان کی ازسر نو تعمیر کے لیے دو سال کا عرصہ اور 75 ارب روپے درکار ہوں گے۔

دوسری جانب پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے عالمی برادری نے 70 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اسی بارے میں