’خیبر میں 350 شدت پسند ہتھیار پھینک چکے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی وزیرستان میں ضرب عضب جبکہ خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر ون کے نام سے فوج کی کارروائیاں جاری ہیں

پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جاری فوجی کارروائی میں دس سے زائد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن خیبر ون میں اب تک کی کارروائی میں 20 اہم کمانڈروں سمیت 350 شدت پسند سکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار پھینک چکے ہیں۔

پیر کو خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں دس سے زائد شدت پسندوں نے اسلحے سمیت خود کو فورسز کے حوالے کیا۔

خیبر ایجنسی تین سب ڈویژنوں باڑہ، جمرود اور لنڈی کوتل پر مشتمل ہے۔ تاہم بیشتر کارروائیاں باڑہ سب ڈویژن کے علاقوں میں کی جا رہی ہیں جسے شدت پسندوں کا گڑھ قرار دیا جاتا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی میں کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام علاقوں سے عسکریت پسندوں کا صفایا نہیں ہو جاتا۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے اکتوبر میں آپریشن کے آغاز کے بعدایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبر ایجنسی میں کارروائی اس لیے شروع کی گئی ہے کہ وزیرستان سے بھاگ جانے والے عسکریت پسند یہاں پناہ لے رہے تھے۔

یاد رہے کہ یہ بھی اہم ہے کہ خیبر ایجنسی میں آپریشن ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب پاکستانی فوج شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے بڑی کارروائی کر رہی ہے۔

فوج کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پانچ ماہ میں شمالی وزیرستان کے مختلف حصوں میں 1200 سے زیادہ شدت پسند ہلاک اور 200 سے زائد ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کی تقریباً ڈھائی ارب روپے کی جنگی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس نقصان میں وہ رقم شامل ہے جو ہتھیار خریدنے، اسلحہ، انفراسٹرکچر، تیار آئی ای ڈی، بارودی مواد، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، مواصلاتی نظام وغیرہ شامل ہیں۔‘

فوج کا دعویٰ ہے کہ شمالی وزیرستان کا 90 فیصد علاقہ کلیئر کرا لیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ پانچ ماہ میں پاکستانی فوج کے 42 افسر اور اہلکار ہلاک جبکہ 155 زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں