سارک اجلاس میں بلٹ پروف گاڑی کا تنازع؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہم نے سارک اجلاس کے لیے آنے والے تمام رہنماؤں کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کا بندوبست کیا ہے۔ اگر کوئی رہنما اپنی گاڑی لانا چاہے تو لا سکتا ہے: نیپال

نیپال کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ سارک اجلاس کے لیے وزیر اعظم پاکستان بلٹ پروف گاڑی اپنے ہمراہ لائیں گے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے نیپال کے دفترِ خارجہ کے ترجمان کھگا ناتھ ادھیکاری نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے بھارت سے لائی گئی بلٹ پروف گاڑی استعمال کرنے سے معذرت کر لی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 26 نومبر سے شروع ہونے والے دو روزہ سارک اجلاس کے لیے نیپالی حکومت کے پاس دو بلٹ پروف گاڑیاں ہیں جبکہ مزید چھ گاڑیاں بھارت سے کرائے پر لی گئی ہیں۔

تاہم پاکستانی دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی ہے۔

نیپالی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے: ’ہم نے سارک اجلاس کے لیے آنے والے تمام رہنماؤں کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کا بندوبست کیا ہے۔ تاہم اگر کوئی رہنما اپنی گاڑی لانا چاہے تو لا سکتا ہے۔‘

کھگا ناتھ ادھیکاری نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اپنی گاڑی لائیں گے۔۔۔ باقی رہنماؤں کے لیے گاڑیاں بھارت سے منگوائی گئی ہیں۔‘

البتہ انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت سے منگوائی گئی بلٹ پروف گاڑی کے استعمال سے معذرت بھارت کو کسی کا پیغام دینا ہے۔

’ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے بھارت کی گاڑی استمعال کرنے انکار کر دیا ہے ۔۔۔ جب امریکی صدر دورے پر جاتے ہیں تو وہ اپنی گاڑی ساتھ لے کر جاتے ہیں، یہ کوئی بڑا ایشو نہیں ہے۔‘

نیپال کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی اپنی بلٹ پروف گاڑی ساتھ لائیں گے اور وہی استعمال کریں گے۔

اسی بارے میں