’زندگی بدلنے اور مواقع پیدا کرنے کی کوشش‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption شیل کمپنی مختلف کاروباروں میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سالانہ ایوارڈ منعقد کرتی ہے

پاکستان میں سب برا نہیں، کہیں کچھ اچھا بھی ہو رہا ہے، لیکن شاید قومی میڈیا بھی اسے وہ توجہ نہیں دے رہا جو اس کا حق ہے۔

کہیں ٹھٹہ کی دیہاتی عورتیں شمسی توانائی سے چلنے والے لیمپ فروخت کر کے دیہات کو روشن کرنے کے ساتھ ساتھ خود منافع بھی کما رہی ہیں، کہیں کوٹ ادو کی عورتیں موٹر سائیکل کا موبل آئل تبدیل کر کے مقامی آبادی کا اور اپنا فائدہ کر رہی ہے اور کہیں مٹی کے بغیر زراعت اور ٹیلی فون پر طبی مشورے دے کر لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔

یہ وہ پاکستان ہے جو تابناک مستقبل کی نوید دیتا ہے۔ ایسا پاکستان جس کی پاکستان کو ضرورت ہے۔

پاکستان میں ایک کثیرالملکی تیل کی کمپنی شیل نے نوجوانوں میں اپنا کاروبار شروع کرنے، اسے سوچ سے عملی مراحل تک تمام زاویوں میں جانچنے اور پرکھنے کے لیے مدد کا ایک سلسلہ گذشتہ ایک دہائی سے شروع کر رکھا ہے۔

اس سلسلے میں یہ کمپنی 18 سے 32 سالہ نوجوانوں کے درمیان مقابلے کا رجحان پیدا کرنے، ان کی کاروباری کامیابیوں کو دوسروں تک پہنچانے اور ان کی کوششوں کے اعتراف کی خاطر سالانہ ایوارڈز کا بندوبست بھی کرتی رہتی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک تقریب 17 نومبر کو کراچی میں منعقد ہوئی۔

اس سال چار شعبوں میں چار اچھے کاروباری آئیڈیاز کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان میں ’زندگیاں تبدیل‘ کرنے کے شعبے میں حمیرا بچل کو کراچی کے دیہی علاقوں میں تعلیم اور کاروبار کے فروغ میں انوکھے ماڈل پر دیا گیا۔

اس ماڈل کے تحت عورتوں کو سلائی کڑھائی اور ان کے بچوں کو تعلیم کی صورت میں دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

’مواقع پیدا کرنے‘ کی کیٹیگری میں ٹھٹہ کی فاطمہ تینڈائی کو شمسی توانائی کے لیمپس فروخت کر کے اپنے گاؤں کی راتوں کو روشن کرنے کا کامیاب کاروبار شروع کرنے پر ملا۔ وہ چھوٹا لیمپ ایک ہزار روپے میں فروخت کرتی ہیں جس سے آپ چار گھنٹے رات میں روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔

ماحولیات کے شعبے میں ’کیپچر موبلٹی‘ نامی کمپنی کا شاہراہوں پر لاکھوں گاڑیوں کی ہر وقت نقل و حرکت سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبے کو ملا۔ یہ توانائی کھمبوں پر خصوصی آلات نصب کر کے حاصل کی جاتی ہیں۔

’نئی اختراع‘ کے شعبے میں سمارٹ سرجری سول سرجری کے نئے جدید آلات متعارف کروانے کی وجہ سے انعام کی حقدار پائی۔

لیکن بہترین صرف یہ چار کاروبار نہیں تھے بلکہ 12 کے 12 ہی تعریف کے مستحق تھے۔ اگر انھیں انعام نہیں ملا تو اس کی وجہ ان کا خیال یا سوچ نہیں تھی بلکہ انعام ہی چار تھے۔

آپ ڈاکٹرز نامی ایک منصوبے کی ہی مثال لیں۔ ٹیلی فون کے ذریعے 100 روپے کی قلیل فیس میں بہترین طبی ماہرین فون پر ابتدائی مشورے دے کر میلوں دور رہنے والوں کی زندگی کتنی آسان کر دیتے ہیں۔

اسی طرح مٹی کے بغیر صرف پانی کے ذریعے زراعت پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے کیا کچھ کر سکتی ہے۔ یہ سب کاروباری منصوبے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے برابر لا سکتے ہیں۔

پاکستان جو ورلڈ بنک کی رینکنگ کے مطابق اس سال 127 سے مزید ایک درجہ ابتری کی جانب جاتے ہوئے 128 پر پہنچ گیا ہے۔ وہاں اس قسم کے کاروباروں کے انوکھے مواقع کی توقع ابھی مشکل ہے۔

اسی بارے میں