بلوچستان میں پولیو کا نیا کیس، خسرے سےدو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption بلوچستان میں پولیو کے نئے کیس کی تصدیق کے بعد رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد بارہ ہوگئی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پولیو کے ایک نئے کیس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ خسرے سے دو بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

محکمۂ صحت بلوچستان کے مطابق پولیو کے نئے کیس کی تصدیق افغانستان سے متصل ضلع قلعہ عبداللہ میں ہوئی ہے۔

محکمۂ صحت کے مطابق یونین کونسل دامان عشے زئی میں 14ماہ کے ایک بچے بہادر میں پولیو کی علامات پائی گئی جس کے بعد بچے کے خون کے نمونے اسلام آباد بھیجے گئے تھے جہاں سے بچے میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی۔

بلوچستان میں پولیو کے نئے کیس کی تصدیق کے بعد رواں سال صوبے میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد 12ہوگئی ہے۔ جن اضلاع میں پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ان میں کوئٹہ، قلعہ عبداللہ اور ژوب شامل ہیں۔

ادھر کراچی سے متصل ضلع لسبیلہ کے علاقہ کانگڑہ میں خسرے سے دو بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال اوتھل کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں 20 سے زائد بچے خسرے سے متاثر ہوئے ہیں۔

ملک کے باقی صوبوں کے برعکس بلوچستان میں تاحال بچوں کو خسرے سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کی خصوصی مہم شروع نہیں ہوئی جس سے بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

محکمۂ صحت کے مطابق بلوچستان میں تاحال انسداد خسرہ مہم شروع نہ ہونے کی بنیادی وجہ حکومت بلوچستان کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی ہے۔

اس سال کے اوائل تک بلوچستان میں حکام یہ دعویٰ کرتے رہے کہ بلوچستان پولیو فری ہوگیا ہے لیکن گذشتہ تین چار مہینوں سے ایک بار مرتبہ پھر پولیو کے کیسز سامنے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثر ہونے والے بچوں میں زیادہ تر کے والدین نے ان کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا۔

بلوچستان کے وزیر صحت رحمت بلوچ کا کہنا ہے کہ ’ان کیسوں کے حوالے سے جو تحقیق ہوئی ہے اس کے مطابق زیادہ سے زیادہ چیلنج انکار کا ہے۔‘

بلوچستان کے 11اضلاع میں 10 نومبر سے 12 نومبر تک پولیو کے خلاف خصوصی مہم چلائی گئی تھی۔ اس مہم کے دوران 13 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ پانچ نومبر کو وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نےاس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ چھ ماہ میں ملک سے پولیو کو ختم کر دیں گے تاہم ایک روز بعد یہ کہہ کر اس بیان کو واپس لے لیا گیا کہ وزیراعظم نے ایسی کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی۔

اسی بارے میں