’آخر ہمارے بچے کس کس سے محفوظ رہیں‘

Image caption علاقے کے رہائشی اس واقعے کے بعد اب بھی خوفزدہ ہیں

پاکستان میں بچوں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’ساحل‘ کے مطابق ملک میں روزانہ اوسطاً نو سے دس بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات پیش آتے ہیں اور اس کا شکار بچوں میں زیادہ تر بچیاں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ساحل کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال بچوں کے خلاف جنسی استحصال اور تشدد کے واقعات میں 48 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ساحل کا کہنا ہے کہ اس سال جنوری سے جون کے اعداد و شمار کے مطابق جنسی تشدد اور استحصال سے متاثر ہونے والے 1786 بچوں میں سے 66 فیصد بچیاں ہیں اور سب سے زیادہ اغوا اور ریپ کے کیس ہیں۔

گذشتہ سال اسی عرصے کے دوران 1204 کیس سامنے آئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق یہ جرم زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جن کی متاثرہ بچوں کے ساتھ جان پہچان ہوتی ہے جیسے کہ قریبی رشتہ دار، استاد یا ہمسائے۔

رپورٹ میں سب سے زیادہ اغوا کے کیس ہیں اور اس کے بعد ریپ کے کیس شامل ہیں۔

ساحل کی اہلکار سعدیہ پروین نے کہا کہ لوگوں میں شعور بھی آ رہا ہے: ’لوگوں کو پتہ چل گیا ہے کہ یہ ایسا المیہ ہے جس پر ہم نے بات کرنی ہے۔ اور اسی طریقے سے ہم اپنے بچوں کو بچا سکتے ہیں۔ جب ساحل نے 1996 میں کام کرنا شروع کیا تھا تو لوگ اس وقت اتنے کھل کر سامنے نہیں آتے تھے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں ان واقعات میں تقریباً سو فیصد اضافہ ہوا جس میں خونی اور قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس سے وابستہ نفسیاتی اثرات کی وجہ سے اس طرح کے بچوں کی مدد کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

’اس طرح کے کیسوں میں مشکل یہ ہوتی ہے کہ بچہ یا بچی نہیں، والدین نہیں، خاندان والے رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ ان کو جرم سے نفرت ہوتی ہے لیکن جرم کرنے والے سے محبت۔ میرے پاس ایک کیس ہے جہاں بچی کے ساتھ ماموں نے جنسی تشدد کیا تھا۔ ان کو اس بات پر قائل کرنا پڑتا ہے کہ ایف آئی آر درج کرائی جائے اور انصاف کیا جائے۔‘

سعدیہ پروین کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کے واقعات میں قانون کا راستہ طویل اور مشکل ہوتا ہے، لیکن اس کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔ انھوں بتایا کہ حال ہی میں سندھ میں ایک ہندو بچی کے ساتھ تشدد کرنے والے وڈیرے کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

حال ہی میں راولپنڈی کے علاقے پیرودھائی کے قریب سات سالہ آمنہ ایک محلے کی گلی میں پکوڑے خرید کر گھر واپس جا رہی تھی کہ لاپتہ ہو گئی۔

اسی رات اسی محلے میں ایک مشکوک شخص بوری اٹھا کر جا رہا تھا کہ اسے پاس کھڑے پولیس اہلکار نے روکا تو اس نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن آس پاس موجود لوگوں کے ساتھ مل کر اسے پکڑ لیا اور بوری میں آمنہ کی لاش نکلی۔

ایس ایچ او جہانگیر خان بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ بچی کے پوسٹ مارٹم اور ملزم خالد حمید کے ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق ہوئی کہ آمنہ کا ریپ کیا گیا تھا اور اس کی لاش پر تشدد کے نشانات بھی تھے۔

پشاور کے رہائشی اور گوشت کی دکان پر کام کرنے والا ملزم خالد حمید کا اصرار ہے کہ وہ معصوم ہیں: ’میں اسی علاقے میں کرائے کے گھر میں رہتا تھا جہاں آمنہ نے زندگی کے آخری لمحات گزرے۔‘

پولیس کو یقین ہے کہ خالد حمید کے خلاف شہادتیں مضبوط ہیں جس کی وجہ سے اسے اغوا، قتل اور ریپ کے تحت سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

اس واقعے کے ایک ہفتے بعد بھی پورا محلہ ابھی تک خوفزدہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان اندھیری گلیوں میں اب بھی بچے اکیلے بغیر نگرانی کے چلتے پھرتے نظر آ رہے ہیں۔

پولیس نے علاقے میں کرائے پر دیے جانے والے مکانوں کی نگرانی سخت کر دی ہے۔ تاہم پیرودھائی کے بس اڈے کے قریب اس آبادی کے رہائشیوں کے مطابق تین اور بچے گمشدہ ہیں اور والدین پریشان ہیں کہ ’آخر ان کے بچے کس کس سے محفوظ رہیں۔‘

سعدیہ پروین نے کہا کہ بچوں کے لیے سب سے بہتر یہی ہے کہ والدین اور سکول میں انھیں اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے طریقوں کی تربیت دی جائے۔

’بچوں کے لیے نہ مسجد، نہ مدرسہ، نہ سکول اور کبھی کبھار اپنا گھر بھی محفوظ نہیں ہوتا۔ بچے کو اگر اپنی مدد آپ کے تحت اپنے آپ کو بچانے کے طریقے بتائے جائیں تو وہ کچھ حد تک اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں گے۔‘

بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے کیس منظرِ عام پر تو آ رہے ہیں لیکن سزاؤں کی شرح اب بھی بہت کم ہے۔

اسی بارے میں