’بھارت کی وجہ سے مہم پر اثر پڑ رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption آپریشن ضربِ عضب میں شمالی وزیرستان کے مختلف حصوں میں 1200 سے زیادہ شدت پسند ہلاک اور ان کے 200 سے زائد ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی کارروائیوں کی وجہ سے پاکستان کے لیے افغان سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مشکلات درپیش ہیں۔

واشنگٹن میں ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی جرنیل نے امریکی حکام سے کہا ہے کہ ’بھارت کی طرف سے جس طرح کی سخت کارروائی ہو رہی ہے اور جس طرح کے بیانات آ رہے ہیں وہ ہماری مہم پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔‘

’پاکستان ہو یا امریکہ شدت پسند تنظیمیں سب کے لیے خطرہ‘

اہلكار کا کہنا تھا کہ جنرل راحيل شریف نے امریکی اہلکاروں سے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی مغربی سرحد پر ایک لاکھ 40 ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور انھیں یہ امید تھی کہ مشرق میں بھارت سے متصل سرحد پر امن رہے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔‘

پاکستانی فوج کے سربراہ کی اس شکایت پر امریکہ کے سرکاری ردِعمل کے بارے میں تو کچھ نہیں پتہ چل پایا لیكن مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بھارت اور پاکستان کے باہمی معاملات میں مداخلت سے گریز کرتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کئی ہفتوں سے جاری ہے۔

اس دوران دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کے مختلف واقعات میں دونوں جانب سے اب تک کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان اور بھارت کے درمیان ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کئی ہفتوں سے جاری ہے

پاکستان اس معاملے پر بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج بھی کر چکا ہے۔

جنرل راحیل شریف بدھ کو امریکی کانگریس کے ارکان سے بھی ملاقات کر رہے ہیں جس میں وہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی کی تفصیل پیش کریں گے۔

اس کے علاوہ اس ملاقات میں افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد امریکہ اور پاکستان کی طویل المدتی سٹریٹجک شراکت پر بھی بات ہوگی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ راحیل شریف شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کے آپریشن ضربِ عضب کو مثال کے طور پر پیش کر سکتے ہیں جس کی بنیاد پر امریکہ سے پاکستان کو ملنے والي فوجی امداد جاری ركھنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی فوج کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پانچ ماہ سے جاری آپریشن میں شمالی وزیرستان کے مختلف حصوں میں 1200 سے زیادہ شدت پسند ہلاک کیے گئے ہیں اور ان کے 200 سے زائد ٹھکانے تباہ کیے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس دوران حقانی نیٹ ورک اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کے عناصر کا اس علاقے سے صفایا کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں