ایٹمی بجلی گھروں کے منصوبے پر حکم امتناعی برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption درخواست گزاروں نے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی اور سندھ کے ماحولیات اور متبادل توانائی کے محکمے کو فریق بنایا ہے

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کے منصوبے پر حکم امتناعی برقرار رکھا ہے جبکہ درخواست گزاروں کے مطابق اگر قانونی لوازمات پورے ہوں تو انھیں تعمیر پر اعتراض نہیں ہو گا۔

پروفیسر ہود بھائی، شرمین عبید چنائے، ڈاکٹر اے ایچ نیّر اور عارف بلگرامی نے کراچی میں چین کے تعاون سے بننے والے ایٹمی بجلی گھروں کے منصوبے کو ہائی کورٹ میں چیلینج کیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر اور جسٹس شاہنواز طارق پر مشتمل بینچ کے روبرو جمعرات کو اس درخواست کی سماعت ہوئی تو درخواست گزاروں کے وکیل حفیظ پیرزادہ نے دلائل دیے۔

حفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا اس منصوبے کی عوامی سماعت نہیں کی گئی اور نہ ہی ماحول کے تحفظ کے ادارے ’انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی‘ نے جائزہ لیا ہے، جبکہ دنیا میں جہاں بھی اس طرح کے منصوبے بنائے گئے ہیں وہاں یہ لوازمات پورے کیے جاتے ہیں۔

سابق وزیر قانون کا موقف تھا کہ اگر ایٹمی کمیشن قانونی لوازمات پورے کر لے تو انھیں اس منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

عدالت نے مزید سماعت 26 نومبر تک ملتوی کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں ’کینپ‘ نامی 80 میگا واٹ کا ایک جوہری بجلی گھر پہلے سے کام کر رہا ہے

اس سے پہلی سماعت پر پاکستان ایٹمی کمیشن نے جو تحریری جواب دائر کیا تھا اس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر پرانے ڈیزائن کے مطابق کی جا رہی ہے، اس سے انسانی آبادی کو کوئی خطرات لاحق نہیں۔

تاہم درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ اے سی ٹی 1000 نامی جس ٹیکنالوجی سے کراچی میں بجلی گھر تعمیر کیا جا رہا ہے اس کا کہیں تجربہ نہیں کیا گیا ہے۔

حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ ماحول کی آلودگی کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ اتھارٹی موجود ہے اور درخواست گزاروں کو اس سے رجوع کرنا چاہیے جبکہ تابکاری کے اثرات کی نگرانی نیوکلیئر اتھارٹی دیکھتی ہے، یہ اسی کا دائرۂ اختیار ہے۔

منصوبے کی عوامی سماعت نہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے حکومت عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ قانون میں گنجائش موجود ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی منصوبے کی سماعت نہ کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے، اور اگر کسی کو اس پر اعتراض ہے کہ متعلقہ اتھارٹی کے پاس اپیل کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں