لاڑکانہ کا جلسہ کس کے لیے کتنا اہم؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمران خان کے لاڑکانہ جلسے کا میزبان بااثر انڑ خاندان ہے جو اب تک پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور ق سے ہوتا دوہتا تحریکِ انصاف میں ڈیرہ ڈال چکا ہے

اندرونِ سندھ عمران خان کے لیے نیا نہیں۔ جب وہ سیاست میں نہیں تھے تب بھی یہاں موسمِ خزاں و سرما میں پرندوں کا شکار کھیلنے آتے تھے۔

مگر اس بار سیاسی شکار کا موسم ہے چنانچہ اس تناظر میں لاڑکانہ کا جلسہ کیسا رہے گا۔ یہ سوال سندھی اور اردو میڈیا میں گذشتہ ایک ہفتے سے سو ڈھنگ سے پوچھا جا رہا ہے۔

اسلام آباد دھرنا شروع ہونے کے بعد سے بالعموم اور بلاول بھٹو زرداری کے کراچی جلسے کے بعد سے بالخصوص پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کے درمیان جاری الزامیہ میچ کے تناظر میں بھٹو خاندان کے روایتی گڑھ لاڑکانہ میں اجتماع کرنے کا فیصلہ سندھ میں تحریکِ انصاف کی جارحانہ سیاسی حکمتِ عملی کا غماز ہے۔

اب تک کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ عددی اعتبار سے یہ جلسہ کامیاب رہے گا۔

معروف سندھی تـجزیہ کار جامی چانڈیو سمجھتے ہیں کہ اگر اس جلسے کے نتیجے میں تحریکِ انصاف سندھ کے ان طبقات کی توجہ حاصل کرنا شروع کرتی ہے جو نہ قوم پرستوں سے راضی ہیں اور نہ ہی پیپلز پارٹی کی جمود زدہ حکمرانی سے خوش، تو یہ بھی تحریکِ انصاف کی اہم کامیابی تصور کی جائے گی۔

اس امکان سے قطع نظر کہ اس رجحان کا آگے چل کر انتخابی سیاست میں تحریکِ انصاف کو کتنا فائدہ ہوتا ہے یا نہیں، اس وقت روایتی سیاست سے اکتائی ہوئی سندھی نسل کو ایک قابلِ اعتماد متبادل کی شدت سے تلاش ہے اور تحریکِ انصاف کو بھی اندرونِ سندھ شاہ محمود قریشی کی غوثیہ جماعت کے علاوہ بھی اپنا حمایتی دائرہ وسیع کرنے کی شدید خواہش ہے۔

اگر وفاقی چہرہ رکھنے والی تحریکِ انصاف میں روایتی ’الیکٹ ایبل‘ شخصیات کو شامل کرنے کے مقابلے کے بجائے مڈل کلاس سے قیادت ابھارنے پر دھیان دیا گیا تو شہری اور دیہی علاقوں میں ایک تازہ اور مثبت پیغام پھیل سکتا ہے۔

اس تناظر میں جانے اس بات کی کوئی اہمیت ہے بھی یا نہیں کہ عمران خان کے لاڑکانہ کے جلسے کا میزبان بااثر انڑ خاندان ہے جو اب تک پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور ق سے ہوتا دوہتا تحریکِ انصاف میں ڈیرے ڈال چکا ہے۔

ایک موقر سندھی اخبار عوامی آواز کے ایڈیٹر ڈاکٹر ایوب شیخ کے بقول تحریکِ انصاف کی جانب سے سندھ کو مزید صوبوں میں تقسیم کرنے کی مخالفت اور عام سندھی کی سیاسی و اقتصادی مظلومیت کا نکتہ ابھارنے کی کوشش ایک دانش مندانہ سیاسی قدم ہے اور اگر یہ سیاسی لائن برقرار رہتی ہے تو اس کا فائدہ تحریکِ انصاف کو ہی ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھٹو خاندان کے روایتی گڑھ لاڑکانہ میں اجتماع کرنے کا فیصلہ سندھ میں تحریکِ انصاف کی جارحانہ سیاسی حکمتِ عملی کا غماز ہے

تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ نواز شریف نے اندرونِ سندھ اپنی جڑیں بنانے کے لیے بہت سے تجربات کیے لیکن چونکہ وہ سندھ کی سیاسی سوچ کو پوری طرح نہ سمجھ سکے لہذا اس تاثر کو بھی کم نہ کر سکے کہ ان کے سیاسی و اقتصادی ایجنڈے میں پنجاب اولیت پر ہے۔

ان کے مطابق آج 25 برس بعد بھی نواز شریف کو سندھ میں تنظیمی بحران درپیش ہے اور تیسری بار وزیرِ اعظم بننے کے بعد تو انھوں نے عملاً سندھ کو پیپلز پارٹی کا حلقۂ اثر سمجھ کر صبر کر لیا ہے۔ اگر عمران خان اس کے برعکس تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اندرونِ سندھ تنظیم سازی کے لیے انھیں اہل افرادی قوت مل سکتی ہے جس کا پھل انتخابی سیاست کے موسم میں بھی شاید میسر آ جائے۔

تجزیہ کار جامی چانڈیو کہتے ہیں کہ اندرونِ سندھ میں چونکہ نواز شریف کی جماعت کا کوئی خاص وجود ہی نہیں اس لیے محض گو نواز گو کا نعرہ عام آدمی کو متاثر نہیں کر سکتا اور عمران خان سے ایک سندھی جاننا چاہےگا کہ کالا باغ ڈیم، سندھ کے وسائل کی تقسیم اور منصفانہ استعمال، دیہی اور شہری علاقوں میں سماجی و اقتصادی فرق اور مقامی کرپشن جیسے بنیادی مسائل کے بارے میں عمران خان کا اپنا موقف اور عزم کیا ہے اور یہ کمٹمنٹ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے کتنی الگ، تازہ اور واضح ہے۔

بصورتِ دیگر لاڑکانہ جلسہ بھی شغل میلے سے بھرپور ایک اور سیاسی سرگرمی کے طور پر ہی لوگوں کے حافظے میں کچھ عرصے تک رہے گا۔

اسی بارے میں