سرگودھا: ہسپتال میں دس نومولود بچوں کی ہلاکت

Image caption وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی انکوائری کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ہلاک ہونے والے نومولود بچوں کی تعداد دس ہوگئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہسپتال لائے گئے بچوں میں سے آٹھ بچوں کی ہلاکتیں ہوئیں جبکہ جمعرات کو مزید دو بچے ہلاک ہو گئے۔

بچوں کے والدین نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ ہلاکتیں آکسیجن کی کمی کے باعث ہوئی ہیں، جبکہ صوبائی مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ بچوں کو جب سرکاری ہسپتال لایا گیا تو ان کی حالت اسی وقت غیر تھی۔

بچوں کے والدین نے الزام عائد کیا تھا کہ ہسپتال میں آکسیجن کی کمی تھی۔ انھوں نے بار بار ڈاکٹروں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی لیکن بروقت طبی سہولتیں نہ ملنے کے باعث بچے دم توڑ گئے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی انکوائری کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

تاہم ہسپتال کے حکام کی جانب سے مسلسل اس بات کی تردید کی جا رہی ہے کہ ہسپتال میں آکسیجن یا کسی اور سہولت کی کمی تھی۔

ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اقبال سمیع کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ کیو میں سینٹرل آکسیجن سسٹم ہے جو معمول کے مطابق کام کر رہا تھا اور جس میں کوئی خرابی نہیں تھی، اس لیے آکسیجن ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

پنجاب کے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے سرگودھا کے ڈسٹرکٹ ہپستال کا دورہ بھی کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ 19 نومبر کی رات 40 سے زائد نومولود بچوں کو ڈی ایچ کیو لایا گیا۔ ان بچوں کی پیدائش قبل از وقت ہوئی تھی ان کا وزن انتہائی کم تھا۔

’سرگودھا میں ہم نے یہ حال ہی میں نیا ہسپتال بنایا ہے۔ اس پر دو ارب کی لاگت آئی ہے۔ یہاں بچوں کے لیے پانچ انکیوبیٹر ہیں، آئی سی یو بھی موجود ہے اور دوسری سہولتیں بھی۔ لیکن اس کے باوجود ہسپتال پر بہت زیادہ بوجھ ہے۔‘

ڈی ایچ کیو سرگودھا کی نرسری پورے ڈویژن میں نومولود بچوں کے علاج کے لیے اپنی نوعیت کی واحد سہولت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آس پاس کے علاقوں خوشاب، بھکر اور میانوالی سے بھی چھوٹے بچوں کو علاج کے لیے یہیں لایا جاتا ہے۔

خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ ’اصل مسئلہ یہ ہے کہ نجی ہسپتالوں میں ڈیلیوری کے کیس ہوتے ہیں، اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ بچے کی حالت خراب ہے تو وہ اسے سرکاری ہسپتال روانہ کر دیتے ہیں۔

’ان کی اپنی نرسریوں میں بھی کمزور نومولود بچوں کی دیکھ بھال کی مناسب سہولتیں موجود ہونی چاہییں، اور اگر وہ یہ سہولتیں نہیں دے سکتے تو انھیں پری میچور ڈلیوری کے کیس نہیں لینے چاہییں۔‘

اسی بارے میں