ٹنڈو محمد خان: مندر کی مورتیوں، کتابوں کو آگ لگا دی گئی

Image caption اس علاقے میں ہندو کمیونٹی کے 200 سے زائد گھر موجود ہیں اور اس سے قبل ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا: گردھاری لال

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر ٹنڈو محمد خان میں نامعلوم افراد نے ہندو مندر میں موجود مورتیوں اور مقدس کتابوں کو آگ لگا دی۔

اس علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس کے خلاف قوم پرست جماعتوں نے احتجاج کیا ہے۔

ہندو کمیونٹی کے رہنما گردھاری لال گل نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ بیراج کالونی کے قریب شہر کے نواحی علاقے میں ہنومان کا مندر واقع ہے۔ گذشتہ شب 12 بجے تک وہاں ست سنگ جاری تھی جس کے بعد لوگ وہاں سے چلے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ رات کے کسی پہر میں نامعلوم افراد نے مندر میں آ کر آگ لگا دی جس سے دو مورتیاں اور مقدس کتابیں گیتا اور رامائن جل گئیں۔

ٹنڈو محمد خان سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

گردھاری لال کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ہندو کمیونٹی کے 200 سے زائد گھر موجود ہیں اور اس سے قبل ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھی ملک میں جاری شدت پسندی کی لہر کا حصہ ہے۔

’مندر چھوٹے سے پلاٹ پر موجود ہے اور اس زمین پر کسی سے تنازع نہیں اور نہ ہی کسی نے اس پر قبضے کی کوشش کی ہے۔‘

تفتیشی پولیس اہلکار شیر زمان نے بتایا کہ یہ مندر کسی عمارت یا کمرے میں موجود نہیں تھا بلکہ چار دیواری کے اندر ایک کھلی جگہ پر یہ مورتیاں رکھی گئی تھیں۔

’جب حیدرآباد میں مندر میں توڑ پھوڑ کا واقعہ پیش آیا تھا تو میں نے تحریری طور پر یہ نشاندہی کی تھی کہ اس مندر کی تعمیر کی جائے اور ہندو کمیونٹی نے حامی بھری تھی۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے دو موٹر سائیکل سواروں کو وہاں سے گزرتے دیکھا تھا لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ حملہ آور تھے یا راہ گیر۔

شیر زمان کا کہنا ہے کہ ضلع ٹنڈو محمد خان میں 14 مندر ہیں، یہاں کالعدم تنظیموں کا کوئی وجود نہیں اس لیے اس واقعے کی کئی رخوں سے تحقیقات کی جارہی ہے۔

دوسری جانب جیے سندھ تحریک، جساف کے کارکنوں نے شہر میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ہندو کمیونٹی کو سندھ سے بے دخل کرنے کی سازش پر عمل جاری ہے لیکن قوم پرست اس کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

اسی بارے میں