’فوجی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایک قبائلی مشر میر ویس وزیر نے کہا کہ اگرآئی ڈی پیز کے ساتھ حکومت کا رویہ اسی طرح جاری رہا تو وہ دن دور نہیں کہ جب آئی ڈی پیز بھی اسلام آباد آ کرحکومت کے خلاف دھرنا دے

پاکستان میں قومی قبائلی جرگے نے مطالبہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ’دہشت گردوں‘ کےخلاف فوجی آپریشن کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور آئی ڈی پیز کو کلیئر کردہ علاقوں میں اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے۔

سنیچر کو اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں جمیعت علما اسلام (ف) کی نگرانی میں گرینڈ قومی قبائلی جرگہ منعقد کیا گیا جس میں شمالی وزیرستان سمیت قبائلی علاقوں کے سات ایجنسیوں کے قبائلی مشران کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، پشتونخوامی عوامی پارٹی، قومی وطن پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔

جرگے نے کہا کہ شمالی وزیرستان کا 90 فیصد علاقہ جو فوج کے تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق شدت پسندوں سے پاک ہو چکا ہے،اس میں بے گھرہونے والے لاکھوں آئی ڈی پیز کی واپسی اور دوبارہ آباد کاری کا انتظام کیا جائے۔

یہ بھی کہا گیا کہ آپریشن ضرب عضب میں اب تک ہلاک ہونے والے بے گناہ افراد کے لواحقین کو معاوضہ ادا کیا جائے جبکہ زخمی ہونے والوں کے علاج معالجے کے لیے موثرانتظامات کیے جائیں۔

قبائلی جرگے نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آپریشن کے دوران بےگھر ہونے والے آئی ڈی پیز کے تباہ شدہ مکانات اور دیگر املاک کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

جرگے کے شرکا نے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے چھوٹے اور بڑے صنعتی یونٹس لگائےجائیں اور اس کے علاوہ تعلیم کے فروغ کے لیے کالجز، اور یونیورسٹیاں قائم کی جائیں تاکہ وہاں کے بچوں کو تعلیمی سہولیات میسر ہو سکے۔

جرگے نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایف سی آر جیسے کالے قوانین کا نہ صرف خاتمہ کیا جائے بلکہ قبائلی جرگے کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، اس کے علاوہ میڈیا سے بھی مطالبہ کیاگیا کہ آئی ڈی پیز کے مسائل کو قومی سطع پر اجاگرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرّحمان نے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لیے قبائلی مشران کے مرضی کے بغیرکوئی حکومتی اقدام قابل قبول نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جرگے نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایف سی آر جیسے کالے قوانین کا نہ صرف خاتمہ کیاجائے بلکہ قبائلی جرگے کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں قیام امن کے لیے جرگے کو اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔

مولانا فضل الرّحمان نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف شمالی وزیرستان سے10 لاکھ لوگ ہجرت کر کے ٹانک، کرک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگرعلاقوں میں قائم کیمپوں میں مشکلات سے بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

جمیعت کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ وانا اور جنوبی وزیرستان میں مکمل طور پر امن ہے لیکن ایک سوچھے سمجھےمنصوبے کے تحت ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں تاکہ وہاں بھی آپریشن شروع کرکے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا جائے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ جب شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع ہوا تواسلام آباد میں ایک تو دھرنا شروع کردیاگیا، دوسرا سیلاب آ گیا اور ایسے حالات پیدا کردیے گئے کہ جس کے باعث آئی ڈی پیز وہ توجہ حاصل نہ کرسکے جس کے وہ مستحق تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے ایک بار پھر آئی ڈی پیز کے حوالےسے میڈیا کے ’منفی کردار‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ آپریشن خیبر ون کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے آئی ڈی پیز کونہ توجلوزئی کیمپ میں جگہ دی جا رہی ہے۔اورنہ ہی کوئی نیا کیمپ بنایا گیا ہے۔

Image caption عوام نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار والی نے کہا کہ ہم یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ آئی ڈی پیز کے خالی گھروں اور املاک کو کیوں تباہ کیا گیا

انھوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب حکومت بے گھر ہونے والوں کو سرچھپانے کے لیے جگہ نہیں دے سکتی ہے تو پھر ایسی حکومت کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ آئی ڈی پیز کے خالی گھروں، دکانوں اور خالی بازاروں کو بمباری کر کے تباہ کرے۔

انھوں نے کہا کہ ہم یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ خالی گھروں اور املاک کو کیوں تباہ کیا گیا۔

جرگے سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، ایم کیوایم کے حیدرعباس رضوی، سابق گورنر خیبر پختونخوا انجینیئرشوکت اللہ، قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ارکانِ قومی اسمبلی شادی گل اوراسد افریدی نے بھی خطاب کیا۔

جرگے کے دوران شمالی وزیرستان باالخصوص آئی ڈی پیز کے مسائل پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر بعض قبائلی مشران نے سخت احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ بھی کیا اور کہا کہ زیادہ ترسیاسی قائدین نے اصل مسائل پربات کرنے کے بجائے اپنے اپنے جماعتوں کے منشور پیش کیے ہیں۔

Image caption جمیعت کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ وانہ اور جنوبی وزیرستان میں مکمل طور پر امن ہے لیکن ایک سوچھے سمجھےمنصوبے کے تحت ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں تاکہ وہاں بھی آپریشن شروع کرکے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا جائے

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی مشر میر ویس وزیر نے بی بی سی اردوڈاٹ کام کوافسوس کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ ترسیاسی قیادت نے آئی ڈی پیز کے اصل مسائل کو اجاگرنہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ 10 لاکھ آئی ڈی پیز جومختلف سکولوں میں ٹھہرائےگئے تھے اب خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ان سے سکول خالی کروا رہی ہے، یہ وہی تحریک انصاف ہے جس کے سربراہ عمران خان ڈرون حملوں کےخلاف جنوبی وزیرستان تک لانگ مارچ کرنا چاہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اگر آئی ڈی پیز کے ساتھ حکومت کا رویہ اسی طرح جاری رہا تو وہ دن دور نہیں کہ جب آئی ڈی پیز بھی اسلام آباد آ کرحکومت کے خلاف دھرنا دے۔

اسی بارے میں