ملک میں مڈ ٹرم الیکشن کا کوئی امکان نہیں: نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمران خان نے گذشتہ جمعے کو لاڑکانہ میں ایک جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ انھیں اگلا سال الیکشن کا سال نظر آ رہا ہے اور پاکستان کے نوجوان نیا پاکستان بنانے لیے تیار ہیں

وزیرِ پاکستان نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں مڈ ٹرم الیکشن کا کوئی امکان نہیں اور عام انتخابات سنہ 2018 میں ہی ہوں گے جبکہ تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے سنہ 2015 کو انتخابات کا سال قرار دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان نے وزیرِ اعظم نواز شریف کی جانب سے جاری ایک بیان کے حوالے سے بتایا کہ آنے والے انتخابات میں لوگ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کو سامنے رکھوتے ہوئے انھیں ووٹ دیں گے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک کے لیے پارلیمانی نظامِ جمہوریت موزوں ہے جس میں تمام سیاسی قوتیں قانون اور آئین کی بالادستی کے لیے کام کرتے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کر رہی اور عوام کے بہتر مفاد میں ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف وزیرِ اعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبے کر رہی ہے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس نے اسلام آباد میں دھرنا دے رکھا ہے اور وہ ملک کے مختلف شہروں میں جلسے بھی کر رہی ہے۔

عمران خان نے گذشتہ جمعے کو لاڑکانہ میں ایک جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ انھیں اگلا سال الیکشن کا سال نظر آ رہا ہے اور پاکستان کے نوجوان نیا پاکستان بنانے لیے تیار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے اپنی تقریر میں ایک بار پھر بالواسطہ طور پر وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا

اپنے خطاب میں عمران خان نے بلدیاتی انتخابات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

’جب تک نظام نہیں بدلیں گے اور حکمران طاقت نیچے کی جانب نہیں منتقل کریں گے نظام نہیں بدلےگا، گو نواز گو کا مطلب زرداری اور نواز شریف دونوں کے نظام کو مسترد کرنا ہے۔‘

عمران خان نے تقریر میں ایک بار پھر بالواسطہ طور پر وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔

’اگلا سال الیکشن کا سال نظر آرہا ہے، پاکستان کے نوجوان نیا پاکستان بنانے کے لیے تیار ہیں، نئے پاکستان میں وزیراعظم آپ سے سچ بولےگا جھوٹ نہیں بولےگا، جو کر سکے گا وہ کہہ دے گا کہ کروں گا اور جو نہیں کر سکے گا میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا کہ میں نہیں کر سکتا۔‘

عمران خان نے اپنے خطبے میں اعلان کیا کہ اب گو نواز گو کے علاوہ گو زرداری گو کے نعرے بھی لگائے جائیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے 30 نومبر کو اسلام آباد میں ایک ’ْبڑا جلسہ‘ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں