خیبر پختونخوا میں 27 لاکھ بچوں کو پولیو قطرے پلانے کی مہم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ مہم صوبے کے ان تمام اضلاع میں بار بار ہوگی جو پولیو کے وائرس کے حوالے سے حساس ہیں اور یہ مہم اگلے سال مئی تک ایسے ہی جاری رہے گی: ڈاکٹر امتیاز

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیو کے پھیلتے وائرس کو قابو میں لانے کے لیے آج یعنی سنیچر سے بھرپور مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے تحت 21 اضلاع میں27 لاکھ سے زیادہ بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیاگیا ہے۔

اس سال خیبر پختونخوا سے اب تک54 بچوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ملک بھر میں یہ تعداد 260 تک بتائی گئی ہے ۔

انسداد پولیو کی مہم پشاور میں آج سے شروع کر دی گئی ہے جس کے لیے لگ بھگ ساڑھے چار ہزار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پشاور میں سات لاکھ سے زیادہ بچوں کو یہ قطرے دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اس مہم کے لیے شہر میں حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ جن علاقوں میں ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے دینے جا رہی ہیں وہاں پولیس کی نفری ان کے ساتھ ہے جبکہ متعلقہ علاقے کو ناکے لگا کر گھیرے میں لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں موٹر سائکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

پشاور میں عام طور پر چھٹی کے دن ٹریفک کم ہونے کی وجہ سے انسداد پولیو کی مہم اتوار کے روز شروع کی جاتی ہے۔ صوبے کے دیگر 20 اضلاع میں یہ مہم کل یعنی پیر سے شروع ہو گی جس کے لیے لگ بھگ چھ ہزار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر 20 لاکھ بچوں کو یہ قطرے دینے کا ہدف پورا کریں گی۔

خیبر پحتونخوا کے انسداد پولیو مہم کے فوکل پرس ڈاکٹر امتیاز نے بی بی س کو بتایا کہ صوبے میں سردیوں کے موسم کے لیے بھرپور مہم شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور اس میں ان کی کوشش ہو گی کہ پانچ سال کی عمر سے کم ہر بچے کو یہ قطرے دیے جا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مہم صوبے کے ان تمام اضلاع میں بار بار ہوگی جو پولیو کے وائرس کے حوالے سے حساس ہیں اور یہ مہم اگلے سال مئی تک ایسے ہی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سردیوں میں پولیو کے وائرس پر قابو پانا گرمیوں کے موسم کی نسبت آسان ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پاکستان سے اس سال اب تک 260 سے زیادہ پولیو کے مریض سامنے آچکے ہیں جن میں سب سے زیادہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور پھر دوسرے نمبر پر خیبر ختونخوا سے ہیں

یہ مہم چار اضلاع شانگلہ، بٹ گرام، سوات اور دیر بالا میں نہیں ہوگی جبکہ پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت، ٹانک، ہنگو، چارسدہ اور مردان میں مکمل مہم اور باقی 13 اضلاع میں جزوی طور پر رہے گی۔

پاکستان سے اس سال اب تک 260 سے زیادہ پولیو کے مریض سامنے آچکے ہیں جن میں سب سے زیادہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور پھر دوسرے نمبر پر خیبر ختونخوا سے 54 بچوں میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

پولیو کے وائرس کے پھیلنے سے عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جاتی ہے اور یہی جہ ہے کہ پاکستان پر سفری پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں