مجھ سے بدلہ لیا جا رہا ہے: پرویز مشرف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل پرویز مشرف کو پاکستان میں غداری کے سنگین الزمات کے علاوہ قتل کے الزامات کا بھی سامنا ہے

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف غداری کے الزامات ’سیاست زدہ‘ ہیں اور یہ کارروائی ان سے بدلہ لینے کی نیت سے کی جا رہی ہے۔

بی بی سی کے پروگرام ’ہارڈ ٹاک‘ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مغربی جمہوریت نافذ نہیں کی جا سکتی اور اس نظام کو مقامی ماحول کے مطابق بنانا ہوگا۔

کراچی میں دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے غداری کے سنگین مقدمے کے بارے میں سوال پر کہا کہ ’یہ الزامات تراشے گئے ہیں اور یہ پوری طرح سیاست زدہ ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں بدلے کی کارروائی جاری ہے اور مجھے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ بالآخر حق و انصاف کی جیت ہوگی۔‘

سابق فوجی صدر نے کہا کہ وہ پاکستان واپسی کے وقت جانتے تھے کہ انھیں اس صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: ’مجھے ایک فیصلہ کرنا تھا کہ اگر میں پاکستان آنا چاہتا ہوں تو مجھے ان الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا بصورت دیگر میں کبھی پاکستان واپس نہ آتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق صدر نے ایک بار ڈرون حملے کی اجازت کا اعتراف کیا

پاکستان میں جمہوریت کے بارے میں پرویز مشرف نے کہا: ’آپ اپنی قسم کی جمہوریت ہر جگہ تھوپنا چاہتے ہیں اور یہ قابل عمل نہیں ہے کیونکہ ہر ملک کے اپنے مسائل ہیں اور اپنے حالات ہیں اور ہر ملک کو اپنے حالات کے مطابق چلنا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’میں بذات خود جمہوریت میں بہت یقین رکھتا ہوں لیکن میرے خیال میں یہاں پاکستان میں آپ کے لندن یا امریکہ کے جیسی جمہوریت نافذ نہیں کی جا سکتی۔‘

پرویز مشرف نے کہا کہ ’ہمیں جمہوری ہونا چاہیے۔ ہم جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں لیکن ہمیں اسے پاکستانی ماحول کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔‘

پاکستان میں امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت دینے کے سوال پر سابق صدر نے تسلیم کیا کہ انھوں نے ایک حملے کی اجازت دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت پاکستان کے تعلقات میں کوئی بھی ذلت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں

’ایک بار میں نے کہا تھا۔ جبکہ میرے زمانے میں تقریباً نو ڈرون حملے ہوئے تھے۔ میں صرف ایک مرتبہ کی بات کہہ رہا ہوں کہ وقت بڑا کم تھا اور ہمیں ایک اہم دہشت گرد گروپ کے شواہد دکھائے گئے تھے تو پھر ہم نے حملے کی اجازت دی تھی۔‘

بھارت اور پاکستان کے تعلقات پر پوچھے جانے والے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کے مخالف نہیں لیکن صرف پاکستان کے مفاد میں یقین رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بے عزتی ہو، اس کی تذلیل ہو، اس کو تیوریاں دکھائی جائیں اور پھر بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں۔ فرق صرف اتنا ہی ہے۔‘

پرویز مشرف نے کہا کہ ’(پاکستان میں) کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا۔ آپ آئیں اور پاکستان کی کسی بھی گلی میں کسی سے بھی پوچھ لیں۔ کوئی بھی اسے پسند نہیں کرے گا۔ وہ ہمارے اس رویے سے متنفر ہیں۔ نہ وہ جھکنے کے لیے تیار ہیں نہ ہم۔‘

اسی بارے میں