’مذاکرات بھارت نےمعطل کیے، پہل بھی اسے ہی کرنی ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان کٹھمنڈو میں باضابطہ ملاقات طے نہیں ہو سکی

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے لیے گیند بھارت کی کورٹ میں ہے۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق سارک سربراہ کانفرنس میں کٹھمنڈو پہنچنے سے قبل میڈیا سے گفتگو میں پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ ’مذاکرت کی منسوخی بھارت کا یک طرفہ فیصلہ تھا۔‘

صحافیوں سے گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ مذاکرات کا سوال بھارت سے کیا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ وزرائے خارجہ سطح پر مذاکرات کا فیصلہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے کیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بھارت اور پاکستان کے وزیراعظموں کے درمیان دوطرفہ ملاقات کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا: ’آپ کو بتانے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ نیپال کے دارلحکومت کٹھمنڈو میں 18ویں سارک سربراہ کانفرنس بدھ کو شروع ہو گی۔ سربراہی اجلاس کا موضوع ہے، ’امن وخوشحالی کے لیے مربوط تعاون میں اضافے کی اہمیت۔‘

رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج ہو رہا ہے جس میں سارک کے دو روزہ سربراہی اجلاس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز اس وزارتی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف سارک ملکوں کے دوسرے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے اور ان سے دوطرفہ اور علاقائی دلچسپی کے معاملوں پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

اپنے بیان میں پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان خطے میں امن واستحکام چاہتا ہے اور ہم سارک کو یورپی یونین کی طرز پر ایک مضبوط تجارتی اور معاشی بلاک میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ صرف امن اور اقتصادی تعاون کے ماحول کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اسی بارے میں