فیصل آباد:’ہلاک ہونے والا شخص ایبولا کا مریض نہیں تھا‘

Image caption ہ عالمی ادارۂ صحت کا خصوصی مشن پاکستان میں ایبولا سے بچاؤ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کے دورے پر ہے

پاکستان کی وزارتِ صحت اور عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد میں منگل کی شب ہلاک ہونے والا شخص ایبولا وائرس کا مریض نہیں تھا۔

نیشنل ہیلتھ سروسز اور ڈبلیو ایچ او کی جانب سے منگل کی صبح جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ذوالفقار احمد نامی مریض کی ہلاکت دراصل ڈینگی کی وجہ سے ہوئی، جو ہیپٹائٹس سی کا بھی مریض تھا۔

بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چنیوٹ سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ ذوالفقار احمد مغربی افریقی ملک ٹوگو سے دس دن قبل پاکستان واپس لوٹے تھے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ٹوگو میں ایبولا کی وبا موجود نہیں اور ذوالفقار پاکستان آنے سے قبل کسی متاثرہ علاقے میں بھی نہیں گئے تھے۔

محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ہسپتال لائے جانے سے قبل وہ پانچ دن سے تیز بخار میں مبتلا تھے اور ہسپتال میں مزید تجزیے سے پتہ چلا کہ وہ ہیپاٹائٹس سی اور ڈینگی کے مریض ہیں۔

حکام نے ان کے خون کے نمونے اسلام آباد کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ بھی بھجوائے ہیں تاکہ ایبولا کا ٹیسٹ بھی کیا جا سکے تاہم ان کا کہنا ہے کہ موت کی وجہ ہیپاٹائٹس سی ہی ہے۔

بیان کے مطابق اگرچہ اس مریض میں ایبولا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی لیکن محکمۂ صحت کی ٹیمیں فیصل آباد کے علاوہ چنیوٹ میں مریض کے آبائی علاقے میں پہنچ گئی ہیں جہاں وہ اس سے رابطے میں رہنے والے افراد کا جائزہ لیں گی۔

خیال رہے کہ عالمی ادارۂ صحت کا خصوصی مشن پاکستان میں ایبولا سے بچاؤ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کے دورے پر ہے۔

اسی بارے میں