’مذاکرات منسوخ ہوئے ہیں، سلام دعا سے تو نہیں گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ہم اپنے موقف پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت سے قبل پاکستان کے بھارت میں ہائی کمشنر کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہیں اور یہ عام بات ہے‘

وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیکریٹری سطح کے مذاکرات منسوخ کیے گئے ہیں لیکن ’اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ سلام دعا سے بھی گئے۔‘

انھوں نے یہ بات نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں سارک ممالک کے سربراہان کی کانفرنس سے واپسی پر جہاز پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

وزیر اعظم نے سارک کانفرنس کے آخری روز بھارتی ہم منصب سے مصافحے کے بارے میں کہا کہ ’کچھ الفاظ انھوں نے کہے اور کچھ میں نے کہے۔‘

مصافحے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے سیکریٹری سطح کے مذاکرات منسوخ کیے گئے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سلام دعا سے بھی گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سارک کانفرنس کے آخری روز سب سربراہان نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر نواز شریف نے کہا کہ بھارت نے سیکریٹری سطح کے مذاکرات منسوخ کیے تھے۔

’ہم اپنے موقف پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت سے قبل پاکستان کے بھارت میں ہائی کمشنر کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہیں اور یہ عام بات ہے۔‘

میاں نواز شریف نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے خواہاں ہیں لیکن یہ مذاکرات ’مذاکرات برائے مذاکرات‘ نہیں ہونے چاہییں۔

’مذاکرات کو منسوخ بھارت نے کیا اور اس کی بحالی کے لیے پاکستان کی عزت اور خودمختاری کو داؤ پر نہیں لگایا جائے گا۔‘

ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ اسلام آباد اور دہلی میں مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے کسی تیسری ملک کو کردار ادا کرنے کا نہیں کہا۔

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر ہونے والی فائرنگ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ ’اگر مذاکرات ہو رہے ہوتے ہوتے تو یہ مسئلہ ان مذاکرات میں اٹھایا جاتا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت نے ورکنگ باؤنڈری پر بھی فائرنگ کی ہے۔‘

اسی بارے میں