سارک معاہدوں میں پاکستان کی وجہ سے تاخیر نہیں: پاکستان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تسنیم اسلم نے اس بات کی بھی تردید کی کہ سارک کانفرنس میں پاکستان تنہا رہ گیا ہے

پاکستان نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ جن میں کہا گیا تھا کہ سارک کانفرنس کے موقعے پر پاکستان کے تحفظات کی وجہ سے ٹرانسپورٹ اور توانائی سمیت دیگر معاہدوں پر دستخط نہیں ہو سکے۔

یہ بات دفترخارجہ کی خاتون ترجمان محترمہ تسنیم اسلم نے آج جمعرات کو اسلام آباد میں اپنے ہفتہ وار بریفنگ میں کہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سارک کانفرنس سے قبل تین معاہدوں پر دستخطوں کے لیے رابطے جاری تھے لیکن بدقسمتی سے ان معاہدوں کو کانفرنس شروع ہونے سے پہلے حتمی شکل نہیں دی جا سکی اور نہ ہی انھیں متعلقہ وزرا کے سامنے پیش کیا گیا، حالانکہ اس بارے میں پاکستان نے میزبان ملک نیپال کے متعلقہ سیکریٹیریٹ سے رابطہ بھی کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ سارک کانفرنس آج بھی جاری ہے، یقیناً وفود کے درمیاں مختلف ایشوز پر بات ہوگی تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کس معاہدے پر دستخط ہوگا اور کس پر نہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان انڈیا سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے اور برابری کی بنیاد پر بہتر تعلقات کا خواہاں اور حامی ہے اور خطے کی معاشی ترقی کے لیے امن چاہتا ہے تاکہ نہ صرف غربت کا خاتمہ ہو سکے بلکہ اس کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی میں واضح تبدیلی آ سکے۔

ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے بدھ کو سارک کانفرنس میں واضح بیان دیا تھا کہ ہمیں اسلحے کی دوڑ کی بجائے عام آدمی کی ترقی اور خوشحالی پر توجہ دینی چاہے۔

پاک ایران گیس پائپ لائن کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیاں ایٹمی معاملات پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور امکان ہے کہ دونوں ممالک جلد ہی مسئلے کے مثبت حل پر متفق ہو جائیں گے جس کے بعد پاک ایران گیس پائپ لائن پر عمل درآمد یقینی ہو جائے گا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے میں گذشتہ روز ہونے والے امریکی ڈرون حملے کے بارے میں ایک سوال کے جواب پر ترجمان نے کہا کہ یہ کوئی نیا حملہ نہیں ہے جبکہ پاکستان نے پہلے ہی اس مسئلے کو مختلف بین الاقوامی اور متعلقہ فورموں پر اٹھایا ہے جس کے باعث عالمی سطح پر نہ صرف آگہی پیدا ہو چکی ہے بلکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی کئی بار اس کی واضح مخالفت کی ہے۔

تسنیم اسلم نے اس بات کی بھی تردید کی کہ سارک کانفرنس میں پاکستان تنہا رہ گیا ہے اور کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے سارک میں شامل چھ ممالک کے سربراہوں سے ملاقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔

اسی بارے میں