بلوچستان میں سرگرمیاں معطل نہیں محدود کی ہیں: ڈبلیو ایچ او

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں کسی بھی پروگرام کو معطل نہیں کیا گیا تاہم عملے کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے: ڈاکٹر مشیل

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیو کارکنوں پر حملے کے بعد صوبے میں ادارے کی سرگرمیاں معطل نہیں بلکہ محدود کی گئی ہیں۔

منگل کو کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس پر ہونے والے حملے میں تین خواتین سمیت چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

اس حملے کے بعد پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ اقوامِ متحدہ کا یہ ادارہ بلوچستان میں اپنی تمام سرگرمیاں معطل کر رہا ہے۔

تاہم پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر مشیل ژوں ژول تھیئرین نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں ان کے عملے کی سرگرمیوں کو حملے کے بعد محدود کر دیا گیا ہے اور یہ ایک معمول کا سکیورٹی قدم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جب تک یہ سرگرمیاں محدود ہیں، ہم واقعے کی وجوہات اور اس کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں اور جب ہم مطمئن ہو جائیں گے کہ سکیورٹی کے ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے ہیں، یہ سرگرمیاں مکمل طور پر بحال کر دی جائیں گی۔‘

انھوں نے مزید وضاحت کی کہ پاکستان میں کسی بھی پروگرام کو معطل نہیں کیا گیا تاہم عالمی ادارۂ صحت کے پاکستان میں موجود تمام عملے کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا ’یہ افواہ بے بنیاد ہے اور کل بھی ہمارا عملہ اپنے دفاتر سے کام کرتا رہا تھا۔اس وقت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نگرانی کا کام عارضی طور پر روکا گیا ہے۔‘

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے اس سلسلے میں وضاحتی بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں ہلاک ہونے والے کارکنان کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کے علاوہ پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کی مہم کے ساتھ مکمل تعاون کا عزم دہرایا گیا ہے۔

ڈاکٹر مشیل نے بتایا کہ سکیورٹی کے مسائل کے سلسلے میں حکومت سے بھی بات چیت ہوئی ہے لیکن اس پر انھوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس سال پاکستان میں اب تک پولیو کے 262 نئے مریض سامنے آئے ہیں، جو کہ گذشتہ 15 برس میں سب سے زیادہ تعداد ہے

پاکستان کی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو وزیرِ اعظم کے پولیو سیل کی سربراہ عائشہ رضا فاروق نے عالمی ادارۂ صحت کے حکام سے صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی خدشات کے سلسلے میں ہنگامی اجلاس میں بات چیت کی ہے۔

اہلکار کے مطابق حکومتِ پاکستان نے عالمی ادارۂ صحت کو سکیورٹی فراہم کرنے پر یقین دہانیاں کروائی ہیں اور اس سلسلے میں ایک منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر مشیل نے کہا کہ وہ حکومت کی ان کوششوں سے مطمئن ہیں اور انہیں یقین ہے کہ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

ادھر بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں پولیو مہم کے چار کارکنوں کی ہلاکت کے واقعے کے خلاف ہیلتھ ورکرز نے مہم کا بائیکاٹ دوسرے روز بھی جاری رکھا ہے جبکہ ہیلتھ ورکرز پر حملے کے شبہ میں 34 افراد کوگرفتار کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ دسمبر سنہ 2012 سے اب تک پاکستان میں پولیو کارکنوں پر حملوں میں 65 رضاکار اور سکیورٹی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

اس سال پاکستان میں اب تک پولیو کے 262 نئے مریض سامنے آئے ہیں، جو کہ گذشتہ 15 برس میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اسی بارے میں