بلوچستان میں عرب شیوخ کو اب شکار کی اجازت نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے بلوچستان حکومت کو ہدایت کی کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے متعلقہ قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھائے

صوبہ بلوچستان کی ہائی کورٹ نے وفاقی وزارت خارجہ کی جانب سے عرب شیوخ کو بلوچستان میں شکار گاہیں الاٹ کرنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

وفاقی وزارت خارجہ کے حکم کو غیر قانونی قرار دینے کا حکم ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس اعجاز خان سواتی پر مشتمل بینچ نے بلوچستان اسمبلی کے سابق سپیکر محمد اسلم بھوتانی اور ضلع خاران سے تعلق رکھنے والے ملک محمد سلیم کی درخواستوں پر دیا۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عرب شیوخ کو یہ شکارگاہیں نایاب پرندے تلور کی شکار کے لیے الاٹ کی جاتی ہیں۔

تلور موسم سرما میں سرد علاقے سے ہجرت صوبے کے گرم علاقوں کا رخ کرتا ہے۔

بلوچستان میں طویل عرصے سے خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کی جا رہی ہیں۔ انھیں یہ شکار گاہیں وزارت خارجہ کی جانب سے الاٹ کی جاتی ہیں۔

اسی طرح کی الاٹمنٹ 2013 اور 2014 کے لیے بھی عرب شیوخ کو بلوچستان کے 10 سے زائد اضلاع میں کی گئی تھی۔

درخواست گزاروں نے اس اقدام کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ عرب شیوخ کو یہ شکار گاہیں تلور کے شکار کے لیے الاٹ کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تلور کا شمار ان پرندوں میں ہوتا ہے جس کی نسل معدوم ہو رہی ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ شکار گاہیں وفاقی حکومت الاٹ کرتی ہے اور بلوچستان حکومت ان فیصلوں کا احترام کرتی ہے۔

سماعت کے دوران آئی یو سی این کے کو آرڈینیٹر برائے نیشنل ریسورس مینیجمنٹ کے اہلکار سید غلام قادر شاہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تلور کا شمار ان پرندوں میں ہوتا ہے جس کا شکار ممنوع ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جنگلی حیات کا شعبہ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جبکہ جن علاقوں میں شکار گاہیں الاٹ کی گئی ہیں وہ بھی صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہیں۔

عدالت نے کہا کہ جن جنگلی حیات کی نسل کو خطرہ ہو ان کے شکار کی اجازت اسے مزید خطرے سے دوچار کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Yves Hingrat
Image caption تلور، بسٹرڈ نسل کے پرندوں میں سے ہے جس کا بائی نومئیل نام (Chlamydotis undulata) ہے

عدالت نے کہا کہ قانونی طور پر وفاقی حکومت کے پاس اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ صوبے کے کسی علاقے کو شکار گاہ قرار دے اور نہ ہی وہ جنگلی حیات کے شکار کی اجازت دے سکتی ہے۔

عدالت نے وفاقی حکومت کے عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کرنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت ایسے کسی فیصلے پر عملدرآمد کی پابند نہیں۔

عدالت نے بلوچستان حکومت کو ہدایت کی کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے متعلقہ قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھائے۔

ڈویژن بینچ نے حکومت بلوچستان کے سیکریٹری جنگلات و جنگلی حیات کو ہدایت کی کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کرے ۔

اسی بارے میں