پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت، لیکن حملے کا خطرہ بھی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’اس مرتبہ بھی غیرمسلح پولیس تعینات کی جائے گی لیکن پانی کی توپیں اور لاٹھیاں منگوائی گئی ہیں‘

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار خان کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں نے 30 نومبر کو شدت پسند تنظیموں خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے جلسے پر حملے سے متعلق معلومات ملی ہیں۔

لیکن وزیر داخلہ کے مطابق جلسے کو پرامن رکھنے کی ذمہ داری تحریک انصاف نے لی ہے۔

پی ٹی آئی کوڈیچوک میں جلسے کی اجازت مل گئی

جمعے کو ہی وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت دی ہے۔

پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں وزیر داخلہ چوہدری نثار خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جلسۂ عام کے منتظمین کے ساتھ ایک تفصیلی معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس کے مطابق جلسہ گاہ کے اندر تمام شرکا کی سکیورٹی کی ذمہ داری پی ٹی آئی کی ہوگی۔

معاہدے کی تفصیل کےمطابق پی ٹی آئی کو اسلام آباد کے مرکز میں جناح ایونیو پر جلسہ گاہ اور پریڈ گراونڈ پر سٹیج بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

معاہدے کے تحت سٹیج کا رخ پارلیمان کی بجائے اب جناح ایوینو کی جانب ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جلسہ گاہ کے اندر پاکستان تحریک انصاف کے کارکن بھی سکیورٹی کی خدمات انجام دیں گے

معاہدے کے مطابق یہ سٹیج رات 12 بجے تک ختم کر دیا جائے گا اور لوگ پرامن طریقے سے منتشر ہوں گے۔ اس علاقے سے باہر نکلنے پر چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ سکیورٹی ادارے حرکت میں آئیں گے اور ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

اسلام آباد کو ماضی کی طرح کنٹینروں سے بند کرنے کی ماضی کی حکومتی روش کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ صرف حساس علاقوں کو بند کیا جائے گا لیکن ان کی کوشش ہوگی کہ یہ کم سے کم نصب کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ بھی غیرمسلح پولیس تعینات کی جائے گی لیکن پانی کی توپیں اور لاٹھیاں منگوائی گئی ہیں۔

فاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ پُرامن سیاسی جلسےاور احتجاج پر حکومت کو اعتراض نہیں تاہم اتوار کے روز جلسے کے شرکا ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد کے ریڈ زون میں 31 اگست کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کا پولیس سے تصادم ہوا تھا

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری عمارتوں پر یلغار کی صورت میں قانون حرکت میں آئےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سیاسی اور جمہوری انداز میں جلسے کے ساتھ ساتھ احتجاج کے حق میں ہے اور حکومت کسی حوالے سے بھی اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔

’ہماری کوشش ہے کہ یہ جلسہ جمہوری انداز میں اچھے طریقے سے ہو۔‘

تحریک انصاف اور حکومت کے مابین طے پانے والے معاہدے کی دستاویز کے مطابق شرکا کے لیے 20 واک تھرو گیٹ لگائے جائیں گے۔

اسی بارے میں