پی او ایف کا اسلحہ پہلی بار عام شہری استعمال کریں گے

Image caption پی او ایف حکام کا کہنا ہے کہ اس ادارے کی 63 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری میں بنا ہوا اسلحہ عام شہریوں کو فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے

پاکستانی فوج کے لیے اسلحہ بنانے والے واحد سرکاری ادارے پاکستان آرڈیننس فیکٹری (پی او ایف) نے اپنا اسلحہ پہلی بار عام شہریوں کو فروخت کے لیے پیش کیا ہے۔

پی او ایف کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد احسن محمود نے واہ کینٹ میں واقع اس اسلحہ ساز فیکٹری کا دورہ کرنے والے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا ادارہ نہ صرف ملک کے اندر بلکہ ملک سے باہر بھی اسلحہ کی مانگ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس ہدف کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔

پی او ایف کی جانب سے جمعے کو اخبارات میں اشتہارات شائع کیے گئے ہیں جن میں مختلف اقسام کے چھوٹے ہتھیار اور گولیاں اور ان کی قیمتیں شائع کی گئی ہیں۔

اشتہار میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہتھیار صرف لائسنس یافتہ افراد ہی کو فروخت کیے جائیں گے۔

پی او ایف حکام کا کہنا ہے کہ اس ادارے کی 63 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری میں بنا ہوا اسلحہ عام شہریوں کو فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

ادارے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد احسن محمود نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے حکومت سے کہا ہے کہ اس ادارے کو تجارتی بنیادوں پر چلانے کی اجازت دی جائے تاکہ اس کی صلاحیت کے مطابق اسلحہ بنا کر ملک کے اندر اور باہر فروخت کیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ کسی پیداواری ادارے کو تجارت کی بجائے سرکاری دفتر کے طور پر چلانے سے اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

’اگر پی او ایف کے بورڈ کو وہ قانونی اختیار دے دیے جائیں جو کسی بھی ادارے کو تجارتی بنیادوں پر چلانے کے لیے ضروری ہیں تو ہم اس ادارے کی پیدوار اور برآمدات میں کئی گنا اضافہ کر سکتے ہیں۔‘

Image caption پی او ایف کی جانب سے جمعے کو اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کیے گئے ہیں جن میں مختلف اقسام کے چھوٹے ہتھیار اور گولیاں اور ان کی قیمتیں شائع کی گئی ہیں

فیکٹری حکام نے بتایا ہے کہ انھوں نے چھوٹا اسلحہ لائسنس یافتہ افراد کو فروخت کرنے کے لیے کراچی میں بھی دکان کھولی ہے۔ اس کے علاوہ اسلحہ ڈیلروں کو بھی خصوصی رعایت کے ساتھ یہ اسلحہ فروخت کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

اس سوال پر کہ پی او ایف کی بندوقیں اور گولیاں بازار میں دستیاب بعض غیر ملکی بندوقوں سے کچھ مہنگی کیوں ہیں؟ پی او ایف حکام نے دعویٰ کیا کہ ان کا اسلحہ معیار کے اعتبار سے بازار میں دستیاب غیر ملکی اسلحے سے بہت بہتر ہے۔

پی او ایف کے سربراہ نے کہا کہ ان کا ادارہ 40 ممالک میں اسلحہ فروخت کر رہا ہے اور اس کی سالانہ برآمدات دو کروڑ ڈالر سے زائد ہیں۔

لیفٹینٹ جنرل احسن محمود نے کہا: ’ان کا ادارہ فوج کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کو بھی اسلحہ اور ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ حکومت نے بھی اس معاملے میں ہماری مدد کی ہے اور وزارتِ داخلہ کی مداخلت کے بعد اب قانون نافذ کرنے والے سول ادارے بھی بیرون ملک سے اسلحہ منگوانے کے بجائے ہم سے خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘

پی او ایف حکام کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کو تجارتی بنیادوں پر اسلحہ کی فروخت اس ادارے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔

اسی بارے میں