مذہبی رہنما کے قتل کے خلاف متعدد شہروں میں ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پشاور میں ریلی کے شرکا شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے رنگ روڈ پہنچے اور وہاں موٹر وے پر دھرنا دیا

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما ڈاکٹر خالد سومرو کے قتل کے خلاف اتوار کو ہڑتال کی اپیل پر ملک کے متعدد شہروں میں بازار بند رہے جبکہ کچھ شہروں میں پہیہ جام ہڑتال بھی کی گئی۔

جے یو آئی سندھ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر خالد سومرو کو 28 نومبر کو سکھر میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

اس ہڑتال اور احتجاج کی کال جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دی تھی۔

ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر صوبہ بلوچستان میں دیکھنے میں آیا جہاں بیشتر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔

کوئٹہ سے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ہڑتال کی کال پر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تمام اہم کاروباری مراکز بند رہے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جانے کی وجہ سے ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔

کوئٹہ کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک کی روانی معطل کر دی گئی جس سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس واقعہ کے خلاف بلوچستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں جن میں خالد محمود سومرو کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

اسلام آباد سے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد میں بھی جزوی ہڑتال ہوئی جبکہ اس موقع پر ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جو نیشنل پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہوگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مظاہرین نےاہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک کی روانی معطل کر دی

اس مظاہرے میں مختلف دینی مدارس اور تعلیمی اداروں کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نےسابق سینیٹر خالد سومرو کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ سیاسی اور مذہبی رہنماؤں پر حملوں کے پس پردہ محرکات کو بے نقاب کیا جائے۔

پشاور سے ہمارے نمائندے عزیز اللہ خان کے مطابق پشاور میں اس واقعہ کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کے شرکا شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے رنگ روڈ پہنچے اور وہاں موٹر وے پر دھرنا دیا۔

جے یوآئی کے کارکنوں کے دھرنے کی وجہ سے وزیر اعلیٰ خیبر پشتونخوا پرویز خٹک کی سربراہی میں اسلام آباد جانے والے پی ٹی آئی کے کارکن موٹر وے سے نہیں جاسکے بلکہ انہیں جی ٹی روڈ سے جانا پڑا۔

پشاور کے علاوہ خیبر پشتونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی جے یو آئی کے زیر اہتمام احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

کرک کے علاقے میں ہائی وے کی بندش پر تحریک انصاف اور جے یوآئی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوتے ہوتے رہ گئی اور پولیس نے مداخلت کرکے تحریک انصاف کے کارکنوں کو وہاں سے پر امن طور پر اسلام آباد کے لیئے روانہ کیا۔ سندھ سے نمائندہ ریاض سہیل کے مطابق کراچی اورحیدر آباد سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں جے یوآئی کے کارکنوں نے احتجاجی ریلیاں نکالنے کے علاوہ مظاہرے کیے۔

ڈاکٹر خالد سومرو کے قتل کے خلاف سکھر اور لاڑکانہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی رہی۔

اسی بارے میں