’پانچ دسمبر سے قبل چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب ہو جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپوزیشن لیڈر نے وزیراعظم سے ملاقات میں چیف الیکشن کمشنر کےنام کے لیے مشاورت کی

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر مختلف ناموں پر مشاورت ہوئی ہے، تاہم اس بارے میں اُنھوں نے کسی ایک کا حتمی نام بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ضمن میں اٹارنی جنرل سپریم کورٹ کو آگاہ کریں گے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وہ نام اس لیے نہیں بتا رہے کہ میڈیا کے لوگ اُس شخصیت کی اچھائیاں اور خامیاں تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس اہم عہدے کے لیے زیادہ مشاورت اس لیے کی گئی تاکہ کسی سیاسی جماعت اور بالخصوص اپوزیشن جماعتوں کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پانچ دسمبر کی دی گئی حتمی مہلت سے پہلے پہلے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ اس عہدے کے لیے ججوں کے نام زیر غور ہیں، جن میں نئے نام بھی شامل ہیں اور پرانے بھی۔

کیا عمران خان حکومت اور قائد حزب اختلاف کے نام پر رضامند ہو جائیں گے؟ اس سوال کے جواب میں سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ بحیثیت اپوزیشن لیڈر جب انھوں نے دیگر جماعتوں سے رابطہ کیا تو ’ہر پارٹی نے آخر میں مجھے کہا تھا کہ آپ بہتر فیصلہ کریں گے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 میں انتخابات کے بعد سابق چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی طرح کمیشن کے ارکان کو بھی اپنے عہدے چھوڑ دینے چاہیے تھے لیکن اُنھوں نے ایسا نہیں کیا۔

ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ انھوں نے وزیر اعظم سے ملاقات میں حکومت کو پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کہا ہے جس پر میاں نواز شریف نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں لائحۂ عمل تیار کریں۔

عمران خان کی جانب سے ملک کو بند کرنے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ احتجاج کرنا عمران خان کا حق ہے تاہم پاکستان کو کوئی بند نہیں کر سکتا۔

’کسی کو طاقت نہیں کہ وہ بند کر سکے، پاکستان کی آزاد فضاؤں میں آزاد فیصلے ہوں گے، یہ نہیں ہو گا کہ کوئی میرا وطن بند کر سکے، سڑکیں بند کر سکے۔‘

دوسری جانب سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے متعلق مقدمے کی سماعت اٹارنی جنرل کی استدعا پر دو دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر ملک سے باہر تھے مگر وہ دونوں فون پر رابطے میں تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے ۔

جس چیف جسٹس ناصر الملک نے استفسار کیا کہ کیا آج تقرری کا عمل مکمل ہو جائے گا؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ توقع ہے آج چیف الیکشن کمشنر کی تقرری ہو جائے گی۔

چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ کیا آپ یقین دہانی کراتے ہیں کہ پانچ دسمبر تک چیف الیکشن کمشنر کا تقرر ہو جائے گا؟ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے سلسلے میں وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات آج شام طے ہے جس میں مثبت پیش رفت متوقع ہے۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کے بعد تمام صورتِ حال واضح ہو جائے گی اور وہ تقرری کے حوالے سے کل عدالت کو یقین دہانی کرانے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔

یاد رہے کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے کہ اگر پانچ دسمبر تک حکومت کی طرف سے مستقل بنیادوں پر چیف الیکشن کمشنر کا تقرر نہ کیا گیا تو عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ کے جج کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے کام کرنے کا حکم نامہ واپس لے لے گی۔

اسی بارے میں