خیبر ایجنسی:انسدادِ پولیو مہم میں ایک ہفتے کی تاخیر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیو ورکزرز اور پھر انسداد پولیو مہم کے لیے رضاکاروں کی خدمات انتہائی کم معاوضوں پر حاصل کی جاتی ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں انسدادِ پولیو مہم کے کارکنوں اور انتظامیہ کے مذاکرات کی کامیابی کے بعد اب مہم ایک ہفتے کی تاخیر سے شروع ہوگی۔

یہ مہم پیر سے شروع ہونا تھی لیکن ہیلتھ ورکرز اور رضا کاروں نے معاوضہ نہ ملنے پر مہم شروع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

لنڈی کوتل سے ہیلتھ ورکرز نے بتایا کہ انسداد پولیو مہم میں رضاکاروں کے علاوہ اساتذہ اور دیگر افراد شریک ہوتے ہیں اور گذشتہ عرصے میں انسداد پولیو کی جو پانچ مہمات ہوئیں ان کا معاوضہ ورکرز اور دیگر افراد کو نہیں دیا گیا۔

پیر کو ایجنسی سرجن سے ہیلتھ ورکرز اور رضاکاروں کی ملاقات میں انتظامیہ نے ورکرز اور رضا کاروں کے مطالبات تسلیم کر کے انھیں دو روز میں معاوضہ ادا کرنے کا وعدہ کیا۔

اس یقین دہانی کے بعد ہیلتھ ورکز اور دیگر افراد نے آئندہ ہفتے سے مہم میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے اور اب یہ مہم اب آٹھ دسمبر کو شروع ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر شدت پسند اب تک کئی حملے کر چکے ہیں

یہ چار روزہ مہم خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل اور جمرود میں ہوگی تاہم باڑہ کے کچھ علاقوں میں فوجی آپریشن کی وجہ سے اس مہم کا آغاز نہیں ہو سکے گا۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی میں سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے کچھ عرصہ پہلے مقامی پولیس خاصہ دار اور لیویز اہلکار بھی بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے دینے پر مامور کیے گئے تھے۔

پاکستان میں پولیو ورکرز اور پھر انسداد پولیو مہم کے لیے رضاکاروں کی خدمات انتہائی کم معاوضوں پر حاصل کی جاتی ہیں اور دوسرا یہ معاوضے بعض اوقات پانچ سے چھ ماہ کے بعد ادا کیے جاتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بھی صورتحال اس سے کوئی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اکثر علاقوں میں خواتین اور مرد ہیلتھ ورکرز اور رضاکار ان معاوضوں کے لیے مظاہرے کرتے نظر آتے ہیں۔

خیبر ایجنسی سمیت قبائلی علاقے اور خیبر پختونخوا میں بیشتر اضلاع اس حوالے سے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں ہیلتھ ورکرز، رضا کار اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں اس سال سب سے زیادہ پولیو کے مریض سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 260 سے بڑھ چکی ہے ۔

قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ بچوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کی تعداد 150 سے زیادہ جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ تعداد 55 کے قریب بتائی گئی ہے۔

اسی بارے میں