’شہر بند کرنے سے مراد شٹر ڈاؤن نہیں تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بند کرنےکا مطلب ’شٹر ڈاؤن نہیں ہے، شاہ محمود قریشی

پاکستان تحریک انصاف نے ملک کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف جلسوں کے نئے پروگرام کے اعلان کے اگلے ہی دن جلسوں کا شیڈیول تبدیل کر دیا ہے۔

جماعت کے چیئرمین عمران خان نے 30 نومبر کو اسلام آباد میں جلسے سے خطاب میں عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ ہونے کے خلاف چار دسمبر کو لاہور، آٹھ دسمبر کو فیصل آباد، 12 دسمبر کو کراچی اور 16 دسمبر کو پورا پاکستان ’بند‘ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پیر کو اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے جہاں جلسوں کے نئے شیڈیول کا اعلان کیا وہیں یہ وضاحت کی ہے کہ کسی شہر کو ’بند‘ کرنے کا مطلب شٹرڈاؤن نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’لاہور کا پروگرام چار کی بجائے 15 دسمبر کو ہوگا، اور پاکستان کا پروگرام بھی چہلم کے احترام میں اور 16 تاریخ کو سقوط ڈھاکہ کے دن کو سامنے رکھتے ہوئے اب 18 تاریخ کو ہوگا۔‘

انھوں نے بتایا کہ آٹھ تاریخ کو فیصل آباد کا پروگرام طے شدہ شیڈیول کے مطابق ہو گا، جبکہ 12 تاریخ کو پی ٹی آئی کی قیادت کراچی پہنچے گی۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’شہر بند کرنے‘ سے عمران خان کی مراد شٹر ڈاؤن یا دکانیں بند کرنا نہیں تھا۔

’دکانیں بند کرنا ہمارے منصوبے کا حصہ نہیں ہے، ہمارا پروگرام یہ ہے کہ ہم مرکزی شاہراہوں پر اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کروائیں۔‘

انھوں نے اتوار کے روز خیبر پختونخوا میں جے یو آئی کی جانب سے احتجاج کا حوالہ دیا اور کہا کہ صوبے میں موجود پی ٹی آئی کی حکومت نے کہیں بھی پولیس کا استعمال نہیں کیا، گفت و شنید کے ساتھ متبادل راستے تلاش کیے گئے اور تشدد کا استعمال نہیں ہوا۔

اس موقعے پر پی ٹی آئی کے نائب چئیرمین نے اتوار کو نجی ٹی وی چینلوں کی گاڑیوں پر نامعلوم افراد کے حملوں اور مبینہ طور پر جلسے کے دوران مختلف چینلوں کی نشریات کی بندش کی مذمت بھی کی۔

اسی بارے میں