کراچی: دو قوم پرست کارکنوں کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرویچ پیرزادہ کا تعلق موہن جو دڑو کے قریبی گاؤں بلھڑیجی سے تھا

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی اور حیدرآباد کے درمیان سپر ہائی وے سے ملنے والے دو تشدد شدہ لاشوں کی شناخت سندھی قوم پرست کارکنوں کے طور پر ہوئی ہے جو گذشتہ تین ماہ سے لاپتہ تھے۔

یہ لاشیں اتوار کی شب سپر ہائی وے کے لنک روڈ سیری کے مقام پر ویران علاقے سے برآمد ہوئی تھیں۔

ایس ایس پی جام شورو نعیم شیخ نے بتایا کہ دونوں کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے جبکہ سر پر گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا اور دونوں کو ایک ایک گولی لگی۔

20 اور 25 سال عمر کے دونوں جوانوں کی لاشیں حیدرآباد سول ہپستال منتقل کی گئیں، جہاں ان کی شناخت سرویچ پیرزادہ اور واجد لانگاہ کے نام سے کی گئی ہے ، دونوں جئے سندھ متحدہ محاذ نامی علیحدگی پسند جماعت کے کارکن تھے جس کو حکومت نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

گذشتہ ایک ہفتے میں لاپتہ سیاسی کارکنوں کی چار لاشیں مل چکی ہیں، اس سے پہلے آصف پہنور اور وحید لاشاری نامی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔

سرویچ پیرزادہ کراچی سے لاپتہ ہوگئے تھے، ان کی جبری گمشدگی کے بارے میں سندھ ہائی کورٹ میں ان کی والدہ مہرالنسا نے درخواست دائر کی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’سرویچ کو سول کپڑوں میں اہلکار ایمپریس مارکیٹ سے اٹھا کر لے گئے ہیں۔‘

سندھ ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی 27 نومبر کو سماعت ہوئی تھی، جس میں صوبائی اور وفاقی حکومت نے سرویچ کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ اس مقدمے کے وکیل بیرسٹر ضمیر گہمرو کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت کو آصف پہنور کی ہلاکت کا حوالہ دیکر خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر فوری احکامات نہیں اٹھائے گئے تو سرویچ کو بھی مار کر لاش پھینک دی جائے گی۔

سرویچ پیرزادہ کا تعلق موہنجو دڑو کے قریبی گاؤں بلھڑیجی سے تھا۔ ترقی پسند سوچ و خیال کی وجہ سے اس گاؤں کو لٹل ماسکو بھی کہا جاتا تھا۔

سرویچ پیرزادہ کے والد لطف پیرزادہ ترقی پسند اور ہاری حقوق تحریک کے سرگرم کارکن رہے ہیں۔ انھوں نے 20 سالہ نوجوان بیٹے کی لاش سندھ کے مزاحمتی اور صوفی شاعر شاہ عنایت کا یہ شعر پڑھ کر وصول کی ۔’ایک سر تھا، وہ بھی یار کے قدموں میں فدا کیا۔ چلو یہ قرض بھی ادا ہوگیا‘۔

25 سالہ واجد لانگاہ کا بھی تعلق لاڑکانہ ضلعے سے تھا لیکن آج کل وہ کراچی کے علاقے پپری میں ایک دکان پر کام کیا کرتے تھے۔ واجد یکم اگست سے دکان سے گھر جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئے تھے، ان کی جبری گمشدگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر ہے۔

حیدرآباد کے سینیئر صحافی ناز سھتو کا کہنا ہے کہ قوم پرست کارکنوں میں ایک نیا رجحان بھی دیکھنے میں آیا ہے، ان کے بازوں پر اب انگریزی میں ’وی لو سندھ‘ کے ٹیٹو بنے ہوئے ہیں۔ جس سے اس سوچ کی عکاسی ہوتی ہے کہ اگر مارکر پھینک بھی دیا جائے تو بطور قوم پرست کارکن شناخت ہو سکے، ایسے ہی ٹیٹو واجد لانگاھ کے جسم پر بھی کنندہ ہیں۔

آبادی سے دور سپر ہائی وے سے لاشیں برآمد ہونے کے بارے میں ناز سھتو کا کہنا ہے کہ سندھی قوم پرست کارکنوں کی لاشوں کی برآمدگی پر بھی پاکستان کے قومی پریس کی خاموشی ویسے ہی رہی جیسی بلوچ کارکنوں کی لاشوں کی برآمدگی کے وقت ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے ہلاک کرنے والوں نے لاشیں ایسے علاقے میں پھینک دیں تاکہ قومی پریس میں معاملہ نظر نہ آئے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آصف پہنور اور وحید لاشاری کی لاشیں برآمد ہونے کے خلاف سندھ کے کئی شہروں میں پیر کو کالعدم جئے سندہ متحدہ محاذ کی اپیل پر کاروبار بند رہا تھا۔

اس ہڑتال کی دیگر جماعتوں نے بھی حمایت کی تھی، حیدرآباد اور کراچی میں ہفتے اور اتوار کے روز سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاج اور بھوک ہڑتال بھی کی گئی۔

اسی بارے میں