سوات میں صحافی بھی دھمکیوں کی زد میں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سوات میں طالبان کے عروج اور سکیورٹی فورسز کی کاروائیوں کے دوران چار صحافی اپنی زندگیاں گنوا چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں گذشتہ چند ماہ سے طالبان مخالف امن کمیٹیوں کے رہنماؤں اور پولیس اہلکاروں پر جاری حملوں کو دیکھتے ہوئے اب مقامی صحافی بھی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں اور اس حوالے سے کئی سینیئر صحافیوں کو دھمکی آمیز خطوط بھی ملے ہیں۔

سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں واقع سوات پریس کلب میں داخل ہوتے ہی پہلی نظر میں اندازہ ہوجاتا ہے کہ مقامی صحافیوں کو کس قسم کے مشکلات کا سامنا ہے۔

پریس کلب کے تقریباً پانچ سے سات کے قریب سینیئر صحافیوں کو مقامی انتظامیہ کی طرف سے پولیس کے خصوصی محافظ دیے گئے ہیں جو 24 گھنٹے ان کی حفاظت پر مامور رہتے ہیں۔ ان میں بعض اخبار نویس سوات پریس کلب کے عہدیدار یعنی صحافیوں کے نمائندے بھی بتائے جاتے ہیں۔

ان دھمکیوں کے حوالے سے چار پانچ صحافیوں سے تفصیلاً بات کی گئی اور انھوں نے اس سلسلے میں معلومات بھی فراہم کی تاہم خوف کی وجہ سے کوئی بھی صحافی اس بات کے لیے تیار نہیں تھا کہ اس سٹوری یا کہانی میں ان کا نام لے کر پکارا جائے۔ یعنی تمام صحافیوں نے معلومات نام بتانے کی شرط پر بتائی۔

ایک صحافی سے جاننا چاہا کہ وہ پولیس محافظ کو کیوں اپنے ساتھ رکھتے ہیں تو جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ ہمیں مسلح افراد کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا ہے۔‘

بار بار سوال کرنے پر بھی انھوں نے یہ بات واضح طور پر نہیں بتائی کہ مسلح افراد کون لوگ ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ حملہ آوار یہی لوگ ہیں جو ہدف بنا کر قتل کے واقعات میں ملوث رہے ہیں یعنی ان کا اشارہ مسلح تنظیموں کی جانب تھا۔ تاہم اس صحافی نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تمام معلومات فراہم کی۔

پریس کلب کے ایک اور سینیئر صحافی نے کہا کہ ’ہماری بے بسی کا عالم یہ ہے کہ ہم اخبار نویس دوسروں کےلیے تو کام کرتے ہیں لیکن خود کے لیے باوجود یہ کہ ہمارا حق بھی بنتا ہے پھر بھی کھلے عام کچھ نہیں کر سکتے۔‘

ان کے مطابق ’میں صحافیوں کا نمائندہ ہوں اور میرا کام یہ ہے کہ ان کےلیے آواز اٹھاؤں لیکن حالات ایسے ہیں کہ اگر میں سامنے آیا تو نہ صرف مجھے جان کا خطرہ ہوگا بلکہ میرے ساتھیوں کو بھی مشکلات پیش آئیں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فی الحال ہم نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور ساتھ ساتھ حالات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔‘

کئی صحافیوں نے کہا کہ وہ اپنے دھمکیوں کے حوالے سے اس لیے بھی خاموش رہتے ہیں کیونکہ کسی کے ساتھ تذکرہ کرنے سے انھیں زیادہ مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوات میں اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایسی صورتحال میں تیسرا فریق فائدہ اٹھاتا رہا ہے اسی وجہ سے بیشتر صحافیوں نے خاموشی میں ہی آفیت سمجھی رکھی ہے۔

سوات میں طالبان کے عروج اور سکیورٹی فورسز کی کاروائیوں کے دوران چار صحافی اپنی زندگیاں گنوا چکے ہیں جن میں جیو ٹی وی کے موسیٰ خان خیل، عبدالعزیز شاہین، قاری شعیب اور سراج الدین شامل ہیں جبکہ ایک سینیئر صحافی شیرین زادہ کی ہمشیرہ ان کے گھر پر فائرنگ سے ہلاک ہوگئی تھیں۔

پشاور کے بعد سوات کا شمار صوبے کے ان بڑے شہروں میں ہوتا ہے جہاں سے سب سے زیادہ اخبارات اور رسائل شائع ہوتے ہیں۔

سوات کے ایک نوجوان صحافی کا کہنا ہے کہ بعض اوقات اس طرح بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب کچھ سینیئر صحافیوں کو بار بار دھمکیاں ملتی ہیں تو وہ حفاظت کی خاطر یا تو زیر زمین چلے جاتے ہیں یا علاقہ چھوڑ کر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوجاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وادی سوات میں پولیس کے مطابق رواں برس ہدف بناکر قتل کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں اب تک 18 کے قریب طالبان مخالف امن کمیٹیوں کے رہنما مارے جا چکے ہیں

تاہم انھوں نے کہا کہ یہ بھی کوئی طرتقہ نہیں کہ اس حد تک سنجیدہ صورتحال پر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا جائے۔ انھوں نے اس سلسلے میں سینیئر صحافیوں کے خاموشی کو بھی ننقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس حوالے سے صحافتی تنظیموں کو اعتماد میں لے کر کوئی لائحہ عمل طے کرنا چاہیے تاکہ ان خطرات کا تدارک کیا جائے۔

وادی سوات میں پولیس کے مطابق رواں برس ہدف بناکر قتل کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں اب تک 18 کے قریب طالبان مخالف امن کمیٹیوں کے رہنما مارے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ سکیورٹی اہلکاروں کو بھی متعدد حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً کالعدم طالبان تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔ وادی میں ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات کی وجہ سے بیشتر بااثر افراد یا خواتین علاقہ چھوڑ کر اسلام آباد یا دیگر شہروں میں منتقل ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان گذشتہ کچھ عرصہ سے صحافیوں کےلیے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا جاتا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی اور کمزور صحافتی تنظیموں کے باعث صحافیوں کے مشکلات میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ تاہم رواں برس اپریل کے ماہ میں اس میں خطرناک حد تک شدت اس وقت دیکھنے میں آئی جب جیو ٹی وی کے نامور اینکر و صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کیا گیا جس کے بعد ذرائع ابلاغ میں اختلافات کھول کر سامنے آگئے ۔

اکثر سینیئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ حامد میر واقعہ کے بعد بظاہرایسا لگتا ہے کہ صحافیوں نے آزادی حاصل کرنے کےلیے کا جو سفر طے کیا تھا وہ واپس صفر پر پہنچ گیا ہے۔

اسی بارے میں