رواں برس بلوچستان سے 144 تشدد زدہ لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پانچ دسمبر کو ضلع پشین سے مزید 3 لاشیں برآمد ہوئیں

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ذرائع کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 14نومبر تک 144 افراد کی لاشیں ملیں ہیں۔

محکمہ داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لاشیں بلوچستان کے چھ ڈویژنوں کے مختلف علاقوں سے بر آمد ہوئیں ہیں۔ سب سے زیادہ لاشیں کوئٹہ ڈویژن سے ملیں جن کی تعداد 67 تھی۔

نامہ نگار کے مطابق 14 نومبر کے بعد بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بعض افراد کی تشدد زدہ لاشیں بر آمد ہوتی رہی ہیں۔ جبکہ آج، پانچ دسمبر کو بھی ضلع پشین سے تین تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔

پشین انتظامیہ کے مطابق یہ لاشیں جمعہ کی شام ضلع کے علاقے یارو سے جو لاشیں ملی ہیں وہ ناقابل شناخت ہیں۔’نامعلوم افراد نے انہیں گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں اس علاقے میں پھینک دی۔‘

تینوں افراد کی لاشوں کو پشین ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جن میں سے ایک کی عمر 45 سا ل کے لگ بھگ ہے جبکہ دیگر دو لاشیں نوجوان افراد کی ہیں۔

محکمہ داخلہ کے ذرائع سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق 14 نومبر تک قلات ڈویژن سے 38، مکران ڈویژن سے 17، ژوب اور سبی ڈویژن سے آٹھ آٹھ اورنصیر آباد ڈویژن سے چھ افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق ان 144 لاشوں میں سے 62 لاشیں بلوچوں، 24 پشتونوں ، 19دوسری قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھیں جبکہ 39 افراد کی لاشیں ناقابل شناخت تھیں۔ بلوچستان کی موجودہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں موجودہ حکومت کے دور میں لاشوں کی بر آمدگی میں کمی آئی ہے۔

بلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمد گی کا سلسلہ 2008 شروع ہوا تھا تاہم ایسے واقعات کے مقدمات کے اندراج کا سلسلہ 2010 سے سپریم کورٹ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ دوسری جانب بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے بر آمد ہونے لاشوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار کے مقابلے میں کئی گناہ زیادہ ہے۔تنظیم کے مطابق ان میں سے بھاری اکثریت جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے بلوچوں کی ہے۔

اسی بارے میں