جنوبی وزیرستان: ’پاکستان میں القاعدہ کے سربراہ ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ US DoD
Image caption عدنان الشکری القاعدہ کے مرکزی گروپ کا رکن تھا اور القاعدہ کے بیرونی آپریشنز کا انچارج تھا

پاکستانی فوج نے ملک کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک آپریشن کے دوران پاکستان میں القاعدہ کے سربراہ عدنان الشکری الجمعہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے سنیچر کی صبح جنوبی وزیرستان کے علاقے شن ورسک میں انٹیلیجنس آپریشن کے دوران القاعدہ کے اہم رہنما سمیت تین شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ عدنان الشکری کے ساتھ ان کا ایک ساتھی بھی مارا گیا جبکہ کارروائی کے دوران ایک پاکستانی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹویٹ کی ہے کہ بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پاکستانی فوج کی ٹیم کو سراہا ہے جس کی کارروائی کے نتیجے میں الشکری ہلاک ہوا۔

’جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے تمام شدت پسندوں کو ختم کردیا جائے گا اور کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔‘

فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن ضربِ عضب کے بعد عدنان الشکری شمالی وزیرستان سے جنوبی وزیرستان منتقل ہو گیا تھا۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی کہ القاعدہ رہنما جنوبی وزیرستان میں ایک کمپاؤنڈ میں پناہ لیے ہوئے جس کے بعد اس علاقے میں کارروائی کی گئی۔

اس کارروائی میں عدنان الشکری کے ساتھ اس کا ایک ساتھی اور مقامی سہولت کار بھی ہلاک ہوئے۔

عدنان الشکری القاعدہ کے مرکزی گروپ کا رکن تھا اور القاعدہ کے بیرونی آپریشنز کا انچارج تھا۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق عدنان الشکری چار اگست 1975 میں سعودی عرب میں پیدا ہوا۔ تاہم اس کے پاس گیانا کی شہریت ہے۔

الشکری پر نیویارک کی عدالت نے 2010 میں امریکہ اور برطانیہ میں دہشت گردی کے منصوبے میں فردِ جرم عائد کی تھی۔

اس مقدمے میں الشکری پر لگائے گئے الزامات میں نیو یارک میں سب وے نظام کو مغربی ممالک میں موجود ساتھیوں کے ذریعے نشانہ بنانا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے الشکری کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر پانچ ملین ڈالر کے انعام کا بھی اعلان کیا ہوا تھا۔

اسی بارے میں