امریکہ نے بگرام میں قید تین طالبان کو پاکستان کے حوالے کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی حکام نے تصدیق نہیں کی کہ پاکستان کے حوالے کیے جانے والے افراد میں لطیف محسود شامل ہیں

امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے حکام نے تین پاکستانی طالبان کو افغانستان سے پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے تین پاکستانیوں کو ’پاکستان کے سپرد‘ کر دیا ہے۔ تاہم اس بیان میں ان افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ان افراد کی حوالگی میں افغان حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی اور پاکستانی حکام کے درمیان بات چیت کے بعد ان تین افراد کو اسلام آباد کے حوالے کیا گیا ہے۔

خفیہ پرواز

اگرچہ امریکی حکام نے تصدیق نہیں کی کہ پاکستان کے حوالے کیے جانے والے افراد میں لطیف محسود شامل ہیں، تاہم مقامی میڈیا کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ لطیف محسود کو ’رہا کر دیا گیا ہے۔‘

طالبان کے کسی سینیئر رکن کی حوالگی کا یہ واقعہ انتہائی غیر معمولی ہے۔ اس اقدام کا مقصد افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا ہو سکتا ہے۔

پاکستانی سینیئر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر کو اس ہفتے کے دوران ایک خفیہ پرواز کے ذریعے پاکستان پہنچا دیا گیا تھا۔

یہ تینوں افراد افغانستان میں بگرام کے امریکی فضائی اڈے پر قید تھے۔

اپنے ایک بیان میں افغانستان میں امریکی افواج کے دفتر کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی قیدی کے تبادلے کا فیصلہ کرنے میں ہم تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں جن میں اس شخص اور اسے وصول کرنے والی حکومت اور خاص طور پر اس چیز کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ اس حوالگی کے بارے میں کس قسم کی سفارتی ضمانت دی جا رہی ہے۔‘

تعلقات میں گرم جوشی

لطیف محسود تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کے نائب کمانڈر سمجھے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ حکیم اللہ محسود کو گذشتہ برس ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

لطیف محسود کو افغان فوج نے اکتوبر 2013 میں پاکستانی سرحد کے قریب سے حراست میں لیا تھا جس کے بعد انھیں بگرام کے امریکی اڈے پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جب انھیں افغان فوج نے حراست میں لیا تو اس وقت لطیف محسود قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں مذاکرات کر کے واپس پاکستان جا رہے تھے۔

سابق افغان صدر کرزئی لطیف محسود کی گرفتاری پر خاصے نالاں تھے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک ولڈریج کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے کہ اب اس طرح کے قیدیوں کے مزید تبادلے ہو سکتے ہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ دوسرا فریق دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہا۔

اسی دوران افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ مسئلے کے پرامن حل کے خواہاں ہیں۔

ماضی میں بھی طالبان کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے قیدیوں کو رہا کیا جاتا رہا ہے۔

اسی بارے میں