طالبان کی عدنان الشکری کی ہلاکت کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ US DoD
Image caption فوجی کارروائی میں عدنان الشکری کے ساتھ اس کا ایک ساتھی اور مقامی سہولت کار بھی ہلاک ہوئے

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن میں القاعدہ کے اہم رہنما شیخ عدنان الشکری جمعہ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی نے ایک اور ای میل میں پاکستانی فوج کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے علاقے شین ورسک میں ایک خصوصی آپریشن کے دوران القاعدہ کے اہم رہنما شیخ عدنان الشکری جمعہ کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔

فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ شمالی وزیرستان میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن ضربِ عضب کے بعد عدنان الشکری شمالی وزیرستان سے جنوبی وزیرستان منتقل ہو گیا تھا۔

پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی کہ القاعدہ کے رہنما جنوبی وزیرستان میں ایک کمپاؤنڈ میں پناہ لیے ہوئے ہیں جس کے بعد اس علاقے میں کارروائی کی گئی۔

کارروائی میں عدنان الشکری کے ساتھ اس کا ایک ساتھی اور مقامی سہولت کار بھی ہلاک ہوئے۔

عدنان الشکری القاعدہ کے مرکزی گروپ کے رکن تھے اور القاعدہ کے بیرونی آپریشنز کے انچارج تھے۔

ایک اور بیان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نہایت دکھ اور افسوس کے ساتھ دنیا نے طالبان کے اہم کمانڈر لطیف محسود سمیت تین طالبان کو حکومتِ پاکستان کے حوالے کرنےکی خبر سنی ہے۔

’نہایت دکھ اور افسوس کے ساتھ دنیا نے ایک ایسی خبر سنی ہے کہ جس کی کسی مسلمان اور افغان سے ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی۔ تحریکِ طالبان پاکستان کے اہم رہنما ’کمانڈر عبد اللطیف محسود ‘ کو دو ساتھیوں سمیت پاکستان کے حوالے کردیا گیا۔‘

انھوں نے ای میل میں کہا کہ افغانستان کی جانب سے طالبان کو پاکستان کے حوالے کرنا اسلامی اور افغانی روایات کے بالکل خلاف ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو امریکہ نے تصدیق کی تھی کہ اس کے حکام نے تین پاکستانی طالبان کو افغانستان سے پاکستان کے حوالے کیا ہے۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے تین پاکستانیوں کو ’پاکستان کے سپرد‘ کر دیا ہے۔ تاہم اس بیان میں ان افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ان افراد کی حوالگی میں افغان حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔

لطیف محسود تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کے نائب کمانڈر سمجھے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ حکیم اللہ محسود کو گذشتہ برس ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغانستان کی جانب سے طالبان کو پاکستان کے حوالے کرنا اسلامی اور افغانی روایات کے بالکل خلاف ہے: ٹی ٹی پی

لطیف محسود کو افغان فوج نے اکتوبر 2013 میں پاکستانی سرحد کے قریب سے حراست میں لیا تھا جس کے بعد انھیں بگرام کے امریکی اڈے پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جب انھیں افغان فوج نے حراست میں لیا تو اس وقت لطیف محسود قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں مذاکرات کر کے واپس پاکستان جا رہے تھے۔

سابق افغان صدر کرزئی لطیف محسود کی گرفتاری پر خاصے نالاں تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی نے بیان میں کہا ہے کہ ’کمانڈر لطیف محسود کی حوالگی اور ان سے پہلے تحریک کے ایک اور رہنما ’اکرام مہمند‘ کی حوالگی سے یقیناً جہادِ پاکستان سے وابستہ ہزاروں مجاہدین کے دل انتہائی دکھی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود تحریک پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ رواں دواں رہے گی۔‘

اسی بارے میں