مشرف کیس: حکومت کو از سرنو شکایت جمع کروانے کے لیے مہلت

Image caption زاہد حامد نے خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جس پر عدالت نے اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق اٹارنی جنرل سے رائے طلب کر رکھی ہے

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے اکیس نومبر کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں وفاقی حکومت کو عدالت میں از سرنو شکایت جمع کروانے کے لیے چارہفتوں کی مہلت دی ہے۔

اکیس نومبر کو خصوصی عدالت نے ملزم پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی لگانے میں معاونت کرنے پر بھی غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواست پر اپنے فیصلے میں تین نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے پر اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز، پاکستان کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد شامل ہیں۔

زاہد حامد موجودہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔ تاہم اس عدالتی فیصلے کے بعد اُنھوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

پرویز مشرف کی اس درخواست میں اُس وقت کے کور کمانڈرز، چاروں صوبائی گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کو بھی اس مقدمے میں شامل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ ان افراد کو محض ایمرجنسی کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا جبکہ ان کا ملک میں ایمرجنسی لگانے میں کوئی کردار نہیں ہے۔

جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں دو رکنی خصوصی عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کی جس پر اس مقدمے کے پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت خصوصی عدالت کے اکیس نومبر کے فیصلے پر قانونی مشاورت کر رہی ہے اس لیے اُسے مذید وقت رکار ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وفاقی حکومت اس مقدمے میں وقت مانگ رہی ہے جبکہ اس سے پہلے ملزم پرویز مشرف کے وکلا وقت مانگتے رہے ہیں۔

بینچ کی سربراہ جسٹس طاہرہ صفدر نے وکیل استغاثہ سے استفسار کیا کہ کیا ایک ہفتے میں عدالتی حکم پر عملدرآمد ہوجائے گا جس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت ہی اس بارے میں بتانے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔

جس پر بینچ کی سربراہ کا کہنا تھا کہ کیا وہ حکومت کی نمائندگی نہیں کر رہے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کے لیے حکومت کو کم از کم دو ہفتوں کی مہلت ملنی چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد یا اس کو چیلنج کرنے کا فیصلہ وفاقی حکومت نے ہی کرنا ہے۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے سات جنوری تک کی مہلت دے دی۔

یاد رہے کہ زاہد حامد نے خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جس پر عدالت نے اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق اٹارنی جنرل سے رائے طلب کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں