نجی شعبے کو ڈیوٹی فری شمسی پینلز درآمد کرنے کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption متبادل توانائی بورڈ کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر سولر پینلز کی پیداوار کم ہے اور ان میں عالمی معیار کی کمی پائی جاتی ہے

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے کے لیے نجی شعبے کو ڈیوٹی فری سولر پینلز درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم نے یہ منظوری وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت متبادل توانائی کمیٹی کی سفارش پر دی۔

کمیٹی میں کہا گیا کہ شمسی پاور پلانٹس سے بجلی کی فراہمی پر موجود غیر معمولی بوجھ اور لوڈشیڈنگ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اس سلسلے میں کسٹم کے محکمے کوضروری ہدایات جاری کر دی ہیں۔

متبادل توانائی بورڈ کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر سولر پینلز کی پیداوار کم ہے اور ان میں عالمی معیار کی کمی پائی جاتی ہے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے مئی میں صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقے بہاولپور میں ملک کے سب سے بڑے شمسی بجلی گھر کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

اس منصوبے کو حکومت پنجاب، بینک آف پنجاب اور چین کی کمپنی میسرز ٹی بی ای اے لیمٹڈ کے مشترکہ تعاون سے قائم کیا جائے گا۔

13 کروڑ ڈالر لاگت کے منصوبے کا پہلا مرحلہ سات ماہ میں مکمل ہو گا اور اس کے ذریعے ایک سو میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی، جبکہ ڈھائی سال کے عرصے میں منصوبے کے مکمل ہونے پر ایک ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے توانائی کا بحران جاری ہے اور سابق حکومت کے دور میں بجلی کے بحران کے خلاف متعدد بار احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔

موجودہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے انتخابات میں عوام کو بجلی کے بحران پر جلد قابو پانے کی یقین دہانی کرائی تھی اور اقتدار میں آتے ہی پانچ سو ارب کے قریب گردشی قرضے فوری ادا کیے تھے جس سے وقتی طور پر توانائی کے بحران میں کمی آئی تھی، لیکن اب موسم سرما کے آغاز پر عوام کو ایک بار پھر طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں