پندرہ ہزار والدین بچوں کو پولیو کے قطرے دینے پر تیار نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیو کی مہم ٹیموں میں شامل ورکروں پر حملوں کا خطرہ بھی موجود ہے

خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں پندرہ ہزار کے قریب والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا ہے۔

ابتدائی سرکاری رپورٹ کے مطابق پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے پہلے روز چودہ ہزار نو سو والدین نے اپنے بچوں کو اس وائرس سے بچاؤ کے قطرے دینے سے انکار کردیا تھا۔خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم جاری ہے جبکہ پشاور میں یہ مہم اتوار کے روز مکمل کر لی گئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کی نسبت پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

پشاور میں جن بچوں کو اتوار کے روز قطرے پلائیے نہیں جا سکے تھے انھیں یہ دوا دینے کے لیے ہیلتھ ورکرز اب بھی گھر گھر جا رہے ہیں۔

پشاور میں سات لاکھ سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے دینے کا ہدف رکھا گیا تھا جس کے لیے چار سو سے زائد ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔

خیبر پختونخوا میں ای پی آئی کے فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ اب بھی ایسے لوگ ہیں جو بچوں کو پولیو کے قطرے دینے سے انکار کرتے ہیں اور یہ لوگ پشاور کے مختلف علاقوں میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی نسبت اب اس رجحان میں کمی آرہی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں صفر اعشاریہ تین سے صفر اعشاریہ سات فیصد تک والدین تھے جو بچوں کو اس بیماری سے بچاؤ کے قطرے دینے سے انکار کرتے تھے اور اب یہ تعداد صفر اعشاریہ پانچ فیصد تک آ گئی ہے ۔

محکمۂ صحت کے اعلٰی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے والدین کو راضی کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن اب تک کوئی موثر پیغام یا اشتہاری مہم ترتیب نہیں دی جا سکی جس سے لوگوں میں پولیو کے قطروں کی افادیت سے آگاہی پیدا کی جا سکے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ انکار کرنے والے والدین کی تعداد میں کمی بیشی آتی رہتی ہے۔ کسی ایک مہم میں ان کی تعداد کم تو کبھی ان کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق انکار کرنے والے والدین اب بھی موجود ہیں اور وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

گزشتہ ماہ چارسدہ میں نا معلوم افراد نے ایسے پمفلٹ بھی جاری کیے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ یہ قطرے مضر صحت ہیں ۔ سرکاری حکام کہتے ہیں کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اس ویکسین سے بانجھ پن ہو سکتا ہے بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف پولیو کے وائرس کو ختم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ انسداد پولیو کی ٹیمیوں کی حفاظت کے لیے بھی حکام کا کہنا ہے کہ بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ پاکستان میں دسمبر 2012 کے بعد سے اب تک حکام کے مطابق 70 سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں ان میں سب سے زیادہ حملے خیبر پختونخوا میں ہوئے ہیں۔

پاکستان سے اس سال اب تک پولیو کے 270 سے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں جو اب تک کی سب سے زیادہ تعداد بتائی گئی ہے۔ دنیا میں پاکستان پولیو کے حوالے سے ان تین ممالک میں سر فہرست ہے جہاں پولیو کا وائرس اب بھی موجود ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر اس بارے میں تشویش پائی جاتی ہے ۔

اس سال سب سے زیادہ مریض پاکستان کے قبائلی علاقوں سے سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 160 تک بتائی گئی ہے جبکہ خیبر پختونخوا سے اس سال اب تک 65 بچوں میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے ۔

اسی بارے میں