وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی سے متعلق درخواستیں مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تحریک انصاف کے موقف کے لیے بڑا دھچکہ ہے

سپریم کورٹ کے سات رکنی لارجر بینچ نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی نااہلی سے متعلق دائر درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

یہ درخواستیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسحاق خاکوانی، پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین اور انصاف لائرز فورم کے گوہر نواز سندھو نے دائر کی تھیں۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔

درخواست گزار اسحاق خاکوانی کے وکیل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے والی جماعتوں، جن میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک شامل ہیں، کے ساتھ مذاکرات کے لیے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو اپنا کردار ادا کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

تاہم بعدازاں وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں اجلاس میں جھوٹ بولا جس کی تصدیق پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے اپنے ایک پیغام میں کی تھی۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ چونکہ وزیر اعظم نے جھوٹ بولا ہے اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے، لہٰذا عدالت اُنھیں نااہل قرار دے۔

اُنھوں نے کہا کہ میڈیا پر بھی یہ بیان شائع ہوا ہے جس پر بینچ میں موجود جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدالتیں میڈیا رپورٹوں پر نہیں بلکہ آئین اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہیں۔

اُنھوں نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا اُن کے پاس آرمی چیف کا کوئی بیان حلفی ہے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ وزیر اعظم نے جھوٹ بولا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں تقریر وزیر داخلہ چوہدری نثار کی تقریر کے بعد کی جس میں اُنھوں نے وزیر داخلہ کے موقف کی تائید کی، جس میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ فوج اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے اور اس ضمن میں آرمی چیف سے مختلف معاملات پر مشاورت ہوتی رہی ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس سارے معاملے میں وزیر اعظم کہاں سے آگئے؟ جس کا درخواست گزار کے وکیل کوئی جواب نہ دے سکے۔ عرفان قادر کا کہنا تھاکہ ماضی میں بھی عدالتیں ایسے مقدمات سنتی رہتی ہیں اس لیے عدالت کو اس معاملے پر از خود نوٹس لینا چاہیے۔

جب عدالت نے درخواست گزاروں سے پوچھا کہ وزیر اعظم کے اس بیان سے اُن کے کون سے سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں تو وہ عدالت میں ایسے کوئی شواہد پیش نہ کر سکے۔ عدالت نے ان تمام درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تحریک انصاف کے موقف کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کو بنیاد بناتے ہوئے اُن انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواستتوں کو بھی مسترد کر چکی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت متعدد بار کہہ چکی ہے کہ وہ ان انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق عدالتوں سے رجوع کرے گی۔

اسی بارے میں