عدالت کا وقت ضائع کرنے پر 20 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے درخواست گزار کا کوئی حق متاثر نہیں ہوا:جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی وقت ضائع کرنے پر درخواست گزار کو 20 ہزار روپے عوضانےکی سزا سنا دی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق بھی متاثر نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود اعلیٰ عدلیہ میں درخواستیں دائر کردی جاتی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار شاہد اورکزئی کی طرف سے نے نئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا خان کی تعیناتی کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے شاہد اورکزئی کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے پارلیانی کمیٹی نے دیگر دوناموں پر جن میں جسٹس ریٹائرڈ طارق پرویز اور جسٹس ریٹائرڈ تنویر احمد خان شامل تھے، اُس طرح مشاورت اور بحث نہیں کی جس طرح ہونا چاہیے تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی پہلے سے ہی جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا حان کو بطور چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے کے لیے ذہن بنا کر بیٹھی ہوئی تھی۔

بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی بطور چیف الیکشن کمشنر تعیناتی سے اُن کا کوئی بنیادی حق متاثر ہوا ہے جس پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں بنیادی یا سیاسی نکتہ نہیں بلکہ آئین کی بات کر رہے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر حزبِ مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف سمیت کسی دوسری جماعت نے اعتراض نہیں کیا تو پھر وہ سردار رضا خان کی تعیناتی کو کیوں متنازع بنانے کی کوشش کیا جا رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے درخواست گزار کا کوئی حق متاثر نہیں ہوا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اس درخواست کو خارج کرتے ہوئے عدالتی وقت ضائع کرنے پر درخواست گزار کو 20 ہزار روپے عوضانے کی سزا سنائی۔ عدالت کی طرف سے درخواست گزار کو ایک ہزار روپے فی منٹ کے حساب سے عوضانے کی سزا سُنائی ہے۔

درخواست گزار شاہد اورکزئی کا کہنا تھا کہ عدالت نے اس درخواست کی سماعت شروع ہونے سے پہلے عوضانے کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ان کی درخواست کی سماعت کے دوران فاضل عدالت کے جج نے نو منٹ تک بات کی تھی۔ شاہد اورکزئی نے کہا کہ اُنھوں نے اس عدالتی فیصلے کو چیلنج نہ کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا۔

شاہد اور کزئی ان درخواست گزاروں میں شامل ہیں جو کسی بھی آئینی معاملے پر اعلیٰ عدالتوں میں درخواستیں دائر کرتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں