ملالہ یوسفزئی اور کیلاش ستیارتھی کے لیے امن کا نوبیل انعام

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملالہ نے امن انعام کے ساتھ ملنے والی رقم اپنے آبائی علاقے میں سکولوں پر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے

سوات سے تعلق رکھنے والی پاکستانی طالبہ اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم کارکن ملالہ یوسفزئی نے بھارتی سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی کے ہمراہ امن کا نوبیل انعام وصول کر لیا ہے۔

ملالہ اور کیلاش کو رواں برس اکتوبر میں مشترکہ طور پر اس انعام کا حقدار قرار دیا گیا تھا اور انھیں یہ انعام بدھ کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے سٹی ہال میں منعقدہ تقریب میں دیا گیا۔

17 سالہ ملالہ امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی کم عمر ترین فرد ہیں۔

تقریب کے آغاز میں نوبیل کمیٹی کے چیئرمین تھور جان جیگ لینڈ نے اپنے خطاب میں ملالہ یوسفزئی اور کیلاش ستیارتھی کو امن کا علمبردار قرار دیا۔

اوسلو میں نوبیل انعام کی تقریب: تصاویر

گل مکئی سے ملالہ یوسفزئی تک: تصاویر

گل مکئی کی ڈائریاں پڑھیے

ایوارڈ وصول کرنے کے بعد اپنے خطاب میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ وہ اپنے والد کی شکرگزار ہیں کہ انھوں نے ان کے ’پر نہیں کُترے اور پرواز کی آزادی دی۔‘

یہ ایوارڈ صرف ان کا نہیں بلکہ ان بچوں کا ہے جو تعلیم چاہتے ہیں، ان خوفزدہ بچوں کا ہے جو امن چاہتے ہیں اور ان بےزبان بچوں کا ہے جو تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

ملالہ نے کہا کہ ’یہ ان بچوں پر ترس کھانے کا نہیں بلکہ اقدامات کرنے کا وقت ہے تاکہ یہ وہ آخری وقت ہو جب ہم کسی بچے کو ناخواندہ دیکھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 17 سالہ ملالہ امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی کم عمر ترین فرد ہیں

ان کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کے ہر کونے میں امن، خواتین کو برابر کے حقوق دیے جانے اور ہر بچے کو اس کی صنف سے قطع نظر تعلیم دیے جانے کی خواہاں ہیں۔

ملالہ نےکہا کہ وہ اپنے کہانی اس لیے نہیں سناتیں کہ وہ انوکھی ہے بلکہ اس لیے کہ یہ ہر بچی کی کہانی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ملالہ ہوں لیکن میں صرف ملالہ نہیں بلکہ ان چھ کروڑ 60 لاکھ بچیوں کی آواز ہوں۔

ملالہ نے اپنی تقریر میں دنیا کے طاقتور اور بااثر ممالک سے سوال کیا کہ ’ایسا کیوں ہے کہ بندوقیں باٹنا آسان ہے اور کتابیں بانٹا مشکل ہے، ٹینک بنانا آسان لیکن سکول بنانا مشکل ہے۔‘

انھوں نے کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مل کر بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بھارتی اور پاکستانی ایک ساتھ کام کر سکتے ہیں اور یہ بچوں کے حقوق کے لیے کام سے ظاہر ہے۔‘

ملالہ نے امن انعام کے ساتھ ملنے والی رقم ملالہ فنڈ کے تحت اپنے آبائی علاقے سوات اور شانگلہ میں سکولوں پر خرچ کرنے کا اعلان بھی کیا۔

نوبیل کی انعامی رقم 14 لاکھ ڈالر کے قریب ہے جو ملالہ یوسفزئی اور کیلاش ستھیارتھی میں برابر تقسیم کی جائے گی۔

اس سے قبل بھارت میں بچوں کی مزدوری کے خلاف مہم چلانے والے کیلاش ستیارتھی نے اپنے ایوارڈ کو بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے نام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک خاموش اکثریت کے نمائندے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ترقی اور روشنی کے سفر میں سب ساتھ چلیں اور کوئی پیچھے نہ رہے۔

کیلاش نے کہا کہ ’ہر بچے کو بڑھنے اور بڑے ہونے کے لیے آزاد ہونا چاہیے، اپنی مرضی سے ہنسنے اور رونے کے لیے آزاد ہونا چاہیے۔‘

ستيارتھي نے اپنے خطاب کا اختتام شلوک پر کیا اور کہا کہ ’ہمیں جہالت سے علم کی طرف، اندھیرے سے روشنی کی طرف بڑھنا ہے۔‘

تقریب میں پاکستانی گلوکاروں راحت فتح علی، سردار علی ٹکر اور بھارت سے سرود نواز استاد امجد علی خان نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

اس تقریب میں شرکت کے لیے ناروے آمد کے بعد بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں ملالہ نے کہا تھا کہامن کا نوبیل انعام ان کے سفر کا نقطۂ آغاز ہے اور اس انعام سے بچوں کے حقوق کی مہم کو آواز ملی ہے۔

ملالہ ماہر طبیعات ڈاکٹر عبدالسلام کے بعد دوسری پاکستانی شہری ہیں جنھیں نوبیل انعام سے نوازا گیا ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے لیے گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی کو اکتوبر سنہ 2012 میں طالبان نے حملے کا نشانہ بنایا تھا۔

ابتدائی علاج کے بعد ملالہ کو انگلینڈ منتقل کر دیا گیا جہاں وہ صحت یاب ہونے کے بعد زیرِ تعلیم ہیں اور اپنے آبائی وطن پاکستان سمیت دنیا بھر میں لڑکیوں کو تعلیم کا حق دلانے کے لیے کوشاں ہیں۔

اسی بارے میں